مصنوعی مسئلہ
Urdu book, p. 205
By Maulana Wahiduddin Khan
بارہ گھنٹے سے زیادہ کام نہیں لینا چاہیئے۔ پھر ۱۹۴۲ء میں یہ اوقات دس گھنٹے کر دیے گئے۔ آزادی کے بعد کا نگریسی حکومت نے پہلے قوانین میں ترمیم اور اضافے کر کے ۱۹۴۸ء میں ایک نیا ایکٹ (Factories Act 1949) منظور کیا جس کی رو سے کام کرنے کے اوقات نو گھنٹے کر دیے گئے اور اب بین الاقوامی آرگنائزیشن (ILO) کے فیصلے کے مطابق مزدوروں اور ملازموں سے آٹھ گھنٹہ سے زیادہ دیر تک کام نہیں لیا جا سکتا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کام کے اوقات کا تعین ایک اضافی چیز ہے۔ جو مختلف حالات میں بدلتا رہا ہے۔ اب اگر موجودہ حالات کے تحت ہم اس کی ضرورت سمجھیں کہ یہ اوقات آٹھ گھنٹہ کے بجائے چار گھنٹہ ہونے چاہئیں تو ایسا کرنے میں آخر کیا قباحت ہے۔ مشینی انقلاب نے جو مسئلہ پیدا کیا ہے اس کی نوعیت دراصل یہ نہیں ہے کہ اس نے آدمی کا کام لوہے کی کلوں کے سپرد کر دیا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ لین دین کا وہ ذریعہ جس سے روپیہ عام آبادی کے درمیان گردش کرتا تھا، اس پر مل مالکوں اور ان کے ڈسٹری بیوٹروں کی اجارہ داری قائم کر دی ۔ مل مالک تو سب کو اپنا خریدار بنا کر ان کی جبیں خالی کر رہا ہے۔ مگر مل مالک کے پاس جو سرمایہ اکٹھا ہوتا ہے وہ پھر عوام کا رخ نہیں کرتا۔ کیونکہ عوام کو اس میں سے اپنا حصہ لینے کا ذریعہ ملازمت اور مزدوری تھی اور وہ کام اس وقت چند آدمیوں کے ذریعہ بڑی بڑی مشینیں انجام دیتی ہیں۔ یہی پیچیدگی آگے چل کر قوت خریداری میں کمی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اور بالآخر خود سرمایہ دار کے لیے مصیبت بن جاتی ہے۔ ایرک گل (Eric Gill) نے لکھا ہے: "ہمیں کارخانوں میں انسانوں کی ضرورت نہیں مشینیں ان سے بہتر ہیں ان کی ایجاد اور استعمال کا سب سے بڑا مقصد انسانی محنت کی بچت ہے۔ لہذا ہمیں مشینوں کو نہیں انسانوں کو ختم کرنا ہے، مگر وہ انسان جسے ہم دنیا سے مٹا دینا چاہتے ہیں، وہ وہ انسان ہے جو کارخانہ میں کام کرتا ہے۔ نہ کہ محلہ میں بسنے والا انسان۔ محلوں میں رہنے والے انسان ہمارے ساتھی ہیں۔ وہ ہمارے دوست ہیں کیونکہ وہ ہمارا مال خریدتے ہیں۔ آج کل سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ کس طرح پیدائش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader