Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مصنوعی مسئلہ

Urdu book, p. 206

By Maulana Wahiduddin Khan

میں انسانی محنت کے دخل کو ختم کیا جائے ، اور دوسری طرف صارفین (Consumers) کی تعداد اور ان کی قوت خرید کو بڑھایا جائے۔ یہی ہمارا بنیادی مسئلہ ہے۔ جڑ یہی ہے اور شاخ بھی یہی ہے ۔ “ سرمایہ داری نظام کے اس تضاد کا حل وہی ہے جسے ہم نے اوپر پیش کیا ہے۔ روزگار بڑھے گا تو لوگوں کی قوت خرید بڑھے گی ، اور جب خریدنے کی قوت بڑھے گی تو کار خانوں سے نکلا ہوا مال زیادہ مقدار میں فروخت ہونے لگے گا۔ اس طرح سرمایہ دار کا کاروبار ترقی کرے گا اور عوام بھی خوش حال ہو جائیں گے ۔ دنیا میں ابھی ضرورت کے سامان کی بے انتہا کھپت ہے مگر ہمارے کار خانے اصل ضرورت سے بہت کم مقدار میں جو مال تیار کرتے ہیں وہ بھی فروخت نہیں ہوتا ۔ کیونکہ لوگوں کی اکثریت اگرچہ اشیائے صرف کی محتاج ہے مگر بے روزگار یا نیم بے روزگار ہونے کی وجہ سے اپنے اندر یہ طاقت نہیں رکھتی کہ کارخانے کے تیار شدہ مال کو خرید سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آٹھویں دسویں سال دنیا کے سر پر تجارتی چکر (Trade cycle) کی مصیبت نازل ہو رہی ہے۔ سرمایہ دار مسلسل پیدا وار میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔ مگر عوام کی قوت خرید میں کمی کی وجہ سے سامان کی نکاسی اس رفتار کے ساتھ نہیں ہوتی جس رفتار سے وہ کار خانوں سے بن کر نکلتا ہے۔ یہاں تک کہ سامانوں کا ڈھیر لگ جاتا ہے اور کارخانہ دار کے سامنے یہ خوفناک مسئلہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ اس بھاری مقدار کو کس طرح بازار میں فروخت کرے ۔ اس وقت سرمایہ دار کے لیے اس کے سوا کوئی شکل نہیں ہوتی کہ مال کی پیدا وار گھٹا دے۔ بڑی تعداد میں کار خانے بند ہونے لگتے ہیں۔ مزدوروں کی اکثریت بے کار ہو جاتی ہے اور منڈیوں کی گرم بازاری اچانک سرد بازاری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہ مصیبت صرف کارخانہ داروں تک محدود نہیں رہتی بلکہ تجارتی چکر کے اس گرداب میں پوری سوسائٹی مبتلا ہو جاتی ہے۔ کارلائل نے کہا ہے کہ ”ایک طبقہ اس وجہ سے چیخ رہا ہے کہ اس کی ہیں لاکھ قمیصیں بے کار پڑی ہوئی ہیں اور ان کا کوئی گاہک نہیں ملتا۔ اور دوسری طرف ہیں لاکھ انسان اس لئے چلا رہے ہیں کہ ان کے پاس تن ڈھانکنے کے لیے کپڑا نہیں “ میں کہتا ہوں کہ قمیصیں تو صرف ہیں لاکھ پڑی ہیں، مگر ان لوگوں کی تعداد میں کروڑوں سے بھی زیادہ ہے جو ان قمیصوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page