مصنوعی مسئلہ
Urdu book, p. 207
By Maulana Wahiduddin Khan
ضرورت مند ہیں۔ مگر دام نہ ہونے کی وجہ سے خرید نہیں سکتے اگر ہم دولت کی گردش کو عام کر دیں اور زیادہ انسانوں کو روزگار دے کر ان کی قوت خرید بڑھا دیں تو صرف بیس لاکھ قمیضیں ختم ہو جائیں گی بلکہ کروڑوں کی تعداد میں مزید قمیضیں بنانی پڑیں گی۔ خاندان کے ایک فرد کو روزگار دینا پورے خاندان کو اپنے سامانوں کا خریدار بنانا ہے۔ پلاننگ کمیشن نے ہندوستان کے روزگار کے مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر پیدائش پر کنٹرول نہیں کیا گیا تو بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے کام مہیا کرنا مشکل ہوگا۔ کمیشن کے خیال میں: " بھارت میں آبادی کا دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ پیدائش کی شرح میں کمی کو ایک بہت بڑی ضرورت سمجھنا چاہیے ۔ " ؛ پنچ سالہ پلان ص ۱۸ مگر یہ بات صرف حالات کے سطحی مطالعہ کا نتیجہ ہے، ہندوستان میں اگر ہر سال ۱۸ لاکھ نوجوان ایسے نکلتے ہیں جن کو روزگار فراہم کرنا ہوتا ہے تو دوسری طرف یہاں کی آبادی میں جو اضافہ ہو رہا ہے اس کی تعداد ۴۵ لاکھ سالانہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ جن لوگوں کو ہمیں روزگار دینا ہے وہ تو سالانہ ۱۸ لاکھ کے بقدر بڑھ رہے ہیں مگر اشیا سے صرف کے خریداروں کی تعداد میں جو اضافہ ہو رہا ہے وہ ۴۵ لاکھ ہے۔ یعنی پہلی تعداد کے مقابلہ میں ڈھائی گنا زیادہ۔ پھر یہ کہنے کے کوئی معنی نہیں ہیں کہ خاندان کی پلاننگ کے بغیر روزگار کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا بہت بڑی تعداد میں ایسے انسانوں کا اضافہ ہو رہا ہے جن کے لیے معاشی اور تمدنی ضروریات کے بہت سے سامان درکار ہیں۔ مگر آپ اس کو نہیں دیکھتے آپ کو صرف یہ نظر آتا ہے کہ ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو روزگار کے طالب ہیں۔ حالانکہ دو آدمی اگر روزگار مانگ رہے ہیں تو پانچ آدمی ایسے ہیں جو اشیا سے صرف کے طلب گار ہیں۔ چند آدمیوں کو روزگار دینا دراصل بہت سے لوگوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ کارخانہ کی بنی ہوئی چیزیں خرید سکیں۔ اس میں مل مالک کا اتناہی فائدہ ہے جتنا مزدور کا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader