Urdu book · سوشلزم اور اسلام

حصہ اول تمہید

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

دریافت کیا جس کے بغیر یہ سماجی زندگی ایک الجھا ہوا معمہ نظر آتی تھی ۔ اس طرح مارکس نے کہا کہ انسانی سماج کی ایک سائنس ہے جس کے اپنے قوانین ہیں اور اس لئے وہ ماضی اور مستقبل دونوں کی تشریح کر سکتی ہے ۔ مارکس نے یہ قوانین مرتب کئے اور ان کو استعمال کر کے مستقبل کے سماج کے بارے میں بہت سی پیشین گوئیاں کرنے کی جرات کی جس طرح فلکیات کا ایک عالم سیاروں کی گردش کے بارے میں پیشین گوئی کرتا ہے میں نے یہاں "جرات" کا لفظ استعمال کیا ہے۔ کیونکہ جو شخص ہمیں یہ بتائے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے وہ قدرتی طور پر اس کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے کہ حالات اس کے الفاظ کو غلط نہ قرار دیں۔ وقت اس شخص کے نظریہ کے صحیح یا غلط ہونے کا امتحان ہوتا ہے جو مستقبل کے بارے میں کچھ کہنے کی جرات کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص اگر یہ اعلان کرے کہ زمین جس قانون کے تحت گردش کر رہی ہے وہ میں نے معلوم کر لیا ہے اور اس قانون کے مطابق یہ ہوگا کہ زمین ایک سوا ایک دن میں چاند سے ٹکرا جائے گی ۔ تو اس شخص کے دعوے کے غلط ہونے کے لئے اتنی بات کافی ہوگی کہ ایک سوا ایک دن گزرنے کے بعد بھی زمین کی گردش حسب دستور جاری رہے اور وہ چاند سے نہ ٹکرائے ۔ اس طرح مارکس کا یہ نظریہ کہ زندگی کے واقعات طبیعی سائنس کی طرح ایک لازمی قانون کے تحت پیش آتے ہیں خود بخود غلط ثابت ہو جائے گا اگر مستقبل کے واقعات ان پیشین گوئیوں کی تصدیق نہ کریں۔ جو مارکس نے اپنے نظریہ کے مطابق ماضی میں کی تھیں ۔ ممکن ہے مارکس کی زندگی میں اس کے نظریئے کی صحت یا عدم صحت کے بارے میں فیصلہ نہ کیا جا سکتا ہو۔ مگر اب سو برس گزرنے کے بعد تو خود زمانہ ایک ایسی بنیاد ہے جس کی روشنی میں پانچ کر ایک معمولی آدمی بھی مارکس کے نظریہ کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کر سکتا ہے ۔ مارکس کے اس نظریہ کے تین اہم اجزاء ہیں۔ اول یہ کہ جس طرح ستاروں کی گردش کا ایک قانون ہے جس کے مطابق وہ مسلسل حرکت کر رہے ہیں اسی طرح انسانی سماج بھی ایک طے شدہ راہ پر سفر کر رہا ہے۔ مارکسزم کے نزدیک سائنس کے قوانین ــــــ چاہے وہ فطری سائنس سے متعلق ہوں یا سماجی سائنس سے ــــــ سبھی خارجی اعمال کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page