حصہ اول تمہید
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
عکس ہیں جو انسان کی مرضی سے آزاد ہو کر اپنا کام کرتے ہیں ۔ آدمی ان کو نہ تو بدل سکتا ہے اور نہ انھیں مٹا سکتا ہے ۔ یہ عالم فطرت کے اٹل قوانین ہیں جن میں کبھی فرق واقع نہیں ہوتا ۔ وہ اپنے آپ قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گے۔ جس طرح انسان کی پیدائش ایک ایسے قانون طبعی کے تحت ہوتی ہے جس پر اسے کوئی اختیار نہیں ہے۔ اسی طرح سماج کے بدلنے کے قوانین ناگزیر تاریخی وجوب (Historical necessity) کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ پہلے جو کچھ ہوا وہی ہو سکتا تھا اور آئندہ جو کچھ ہونے والا ہے وہ ہو کر رہے گا۔ انسان اپنے ارادہ سے اس میں ردوبدل نہیں کر سکتا ۔ دوسرے یہ کہ یہ قانون لازمی طور پر ارتقا کا قانون ہے۔ یعنی سماج کا یہ سفر محض ایک مسلسل گردش نہیں ہے بلکہ وہ ایک ارتقائی سفر ہے جس میں ہر اگلا دور اپنے پچھلے دور سے ترقی یافتہ ہوتا ہے۔ سماج کبھی پیچھے کی طرف نہیں لوٹتا بلکہ ہمیشہ آگے کی طرف جاتا ہے ۔ اس کا حال اس کے ماضی سے بہتر ہے اور اس کا مستقبل اس کے ماضی اور حال دونوں سے بہتر ہوگا۔ تیسرے یہ کہ انسان کی جو حیثیت مادی کائنات کے مقابلہ میں ہے ، ٹھیک وہی حیثیت اس کی سماج کے مقابلہ میں بھی ہے۔ مادی دنیا کا اپنا ایک قانون ہے جس کے مطابق اس کے تمام مظاہر واقع ہوتے ہیں ۔ انسان اس میں تبدیلی نہیں کر سکتا ۔ البتہ اس کا قانون معلوم کر کے اسے استعمال کر سکتا ہے ۔ دریا کا بہاؤ طوفان لاتا ہے اور تباہی پیدا کرتا ہے۔ انسان اگر پانی کی سائنس معلوم کرلے تو دہ بند بنا کر اس سے آب پاشی کے کام لے سکتا ہے ۔ اس سے بجلی پیدا کر سکتا ہے ۔ اور دوسرے بہت سے فائدے حاصل کر سکتا ہے ۔ یہی حال انسانی سماج کا بھی ہے، اس کا بھی اپنا ایک قانون ہے جس کے تحت وہ حرکت کرتا ہے۔ مگر یہ حرکت ستاروں کی حرکت کی طرح نہیں ہے جس کے مقابلہ میں انسان بالکل بے بس ہو ۔ بلکہ دریا کے بہاؤ کی طرح ہے جس پر آدمی قابو پا سکتا ہے اور اپنی کوششوں سے اس کے رخ کو پھیر سکتا ہے۔ سماجی ارتقاء کے بارہ میں مارکس کی دریافت کردہ سائنس کے یہ قوانین ہیں جن کو مارکس نے انسانی تاریخ کے واقعات پر چسپاں کیا ہے اور اس سے نتائج برآمد کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب سے پہلے جو انسانی معاشرے تاریخ میں پائے گئے ہیں ۔ مارکس نے ان کا تجزیہ کرکے بتایا کہ ان کی شکل کیا تھی اور کس طرح وہ اس کے نظریہ کی تائید کرتے ہیں۔ اور پھر اس نظریہ کے مطابق آئندہ انسانی سماج جو شکل اختیار کرے گا اس کی پیشین گوئی کی۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader