Urdu book · سوشلزم اور اسلام

حصہ اول تمہید

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

نظریہ کے مطابق اس نے کہا کہ سماجی تبدیلیوں کی تہہ میں جو اصول کام کر رہا ہے وہ جدلیات (Dilectics) کا اصول ہے۔ یعنی انسانوں کے اندر طبقات کا پیدا ہونا اور مختلف طبقات کا باہم ٹکرانا۔ مارکسی نظریہ کے مطابق " انسان نے اب تک جتنے معاشرے قائم کئے ہیں ان سب کی تاریخ طبقاتی نزاع کی تاریخ ہے۔ غلام اور آقا، امراء اور عوام، سرمایہ دار اور مزدور، مختصر یہ کہ ظالم اور مظلوم ہمیشہ سے ایک دوسرے کے خلاف باہم برسرِ پیکار رہے ہیں۔" طبقات کا باہمی ٹکراؤ ہی وہ سیڑھی ہے جس پر انسانی تاریخ سفر کرتی ہوئی آگے بڑھتی ہے اور ترقی کی آخری منزل پر پہنچتی ہے۔ مارکس کے متعلق یہ بات غلط طور پر مشہور ہوگئی ہے کہ وہ مساوات کا علمبردار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ نظام استحصال (Exploitation) کو مٹانا چاہتا ہے۔ مارکس کے نزدیک انسانی کی تمام پچھلی تاریخ لوٹ کھسوٹ کی تاریخ ہے جس میں ایک طبقہ دوسرے طبقہ کو لوٹتا رہا ہے وہ اسی صورتِ حال کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ اس کے نظریات جو ـــــــــ جدلیاتی مادیت (Dilectical Materialism) پرولتاریہ کی ڈکٹیٹر شپ اور قدرِ زائد (Surplus Value) کے نام سے مشہور ہیں، دراصل تاریخ، سیاست اور اقتصادی قوانین کی وہ تشریحات ہیں جن کے ذریعہ مارکس یہ ثابت کرتا ہے کہ ماضی میں کیوں استحصال جاری رہا ہے اور آئندہ اشتراکی سماج میں کیوں یہ استحصال ختم ہوجائے گا۔ انسانی تاریخ کا قانون کیا ہے۔ مارکس کے نزدیک یہ بالکل وہی ہے جو مادی دنیا کا ہے۔ جس طرح مادی دنیا کی تمام چیزیں ایک عالمگیر قانون میں جکڑی ہوئی ہیں اور اسی کے مطابق ان کے تمام خواص اور افعال ظاہر ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسانی زندگی کا بھی ایک قانون ہے۔ انسان بظاہر شعور اور ارادہ رکھتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک خود مختار مخلوق ہے اور اپنی مرضی سے جو چاہے کر سکتا ہے ۔ مگر انسان کے ارادہ کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ انسانی ذہن میں خارجی حالات کا عکس ہے ۔ ایک تاریخی قانون ہے جو انسانی زندگی کی تمام سرگرمیوں کا حقیقی سبب ہے ۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اگر ہم تاریخ میں یہ دیکھتے ہیں کہ انسانوں کے درمیان لوٹ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page