حصہ اول تمہید
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
کھسوٹ جاری رہی ہے تو اسی میں اس بات کا جواب بھی موجود ہے کہ اس لوٹ کھسوٹ کو کس طرح ختم کیا جاسکتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جو قانون انسانی زندگی کو برہم کئے ہوئے ہے اس کو معلوم کرکے اسے ٹھیک طریقہ سے استعمال کرنا۔ جس طرح طوفان کی تباہی کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ طوفان کے اندر ایک طاقت ہے اور اس طاقت کو اگر قابو میں لاکر اسے مفید اغراض کے لئے استعمال کیا جائے تو یہی طوفان جو آج تباہی کا سبب ہے یہی انسانی کو بہت سے فائدے پہونچاسکتا ہے۔ اسی طرح انسانی زندگی میں اس کے قانون کی ہولناکیاں دیکھ کر ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ اگر اس قانون کو موڑ کر اسے صحیح رُخ پر چلایا جائے تو دہ زندگی کے لئے بے شمار فائدوں کا سبب بن جائے گا۔ سیاسی قانون یہ ہے کہ قدیم زمانہ سے وہ طبقہ حکومت پر قابض رہا ہے جو سماج میں زیادہ طاقت ور تھا، جو وسائل و ذرائع کا مالک تھا۔ اس طبقہ کی حکومت کے معنی یہ تھے کہ جو لوگ سماج کے اندر زیادہ حقوق اور زیادہ سازوسان رکھتے ہیں ، ان کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنے حقوق اور فوائد کا تحفظ کرسکیں۔ اور سیاسی طاقت کے ذریعہ اپنا بچاؤ کرتے رہیں۔ قدیم تاریخ میں یہی چیز سارے سیاسی مظالم کا سبب بنتی رہی ہے۔ اس چیز نے سیاست کو حقوق یافتہ طبقہ کا خادم بنادیا اور اس کا کام صرف یہ ہوگیا کہ وہ دبے ہوئے طبقہ کو دبائے تاکہ جو لوگ اسے لوٹ رہے ہیں وہ اپنے لوٹنے کا کام پورے اطمینان کے ساتھ جاری رکھ سکیں۔ اس لئے حکومت اب محروم طبقہ کو دینی چاہئے ۔ یعنی ان لوگوں کو جن کے پاس ذاتی طور پر ایسی کوئی چیز موجود ہی نہیں ہے جس کے تحفظ کے لئے وہ سیاسی طاقت کو ناجائز طور پر استعمال کریں۔ جب ایسے لوگوں کو حکومت دی جائے گی تو وہ آخر کس چیز کا بچاؤ کریں گے ، کس چیز کے تحفظ کے لئے دوسروں پر ظلم کریں گے۔ یہ طبقہ مارکس کے نزدیک مزدور کا طبقہ ہے۔ جدید صنعتی نظام نے مزدور طبقہ کو ملکیت سے محروم کرکے ایک عظیم تاریخی کام انجام دیا ہے۔ اس طرح ایک ایسا طبقہ وجود میں آگیا ہے جو سیاست کی باگ ڈور سنبھال سکے اور جس کے ہاتھ میں اختیارات دے کر کسی ظلم کا اندیشہ نہ کیا جاسکता ہو۔ مارکس جدید نظام کو الٹ کر اسی طبقہ کے ہاتھ میں سارے سیاسی اختیارات دے دینا چاہتا ہے جس کا نام اس نے پرولتاریہ کی ڈکٹیٹرشپ رکھا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader