Urdu book · سوشلزم اور اسلام

حصہ اول تمہید

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

کیسی عجیب ہے یہ منطق۔ مارکس کی انتہا پسندی نے اس کو یہ بتایا کہ مزدور طبقہ موجودہ صنعتی نظام میں ایک ”بے جائیداد“ طبقہ بن گیا ہے۔ مگر اس کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ لوگوں کی ملکیتوں کا دار و مدار بننے کے بعد فوراً ہی وہ ایک ”صاحبِ جائیداد“ طبقہ بن جاتا ہے۔ لوگوں کی ملکیتیں چھینے کے بعد وہ ہوا اور پانی کی طرح کھلی نہیں چھوڑ دی جائیں گی۔ بلکہ وہ انتظام کے نام پر کچھ لوگوں کے حوالے کی جائیں گی۔ یہ نئے منتظمین دوبارہ وہی کچھ ثابت ہوں گے جو قدیم مالکان ثابت ہوئے تھے۔ مارکس کے اقتصادی قانون کا عنوان قدرِ زائد (Surplus Value) ہے۔ اپنے اس نظریہ کے ذریعہ مارکس اس لوٹ کھسوٹ کی معاشی تشریح کرتا ہے جو اس کے نزدیک ساری انسانی تاریخ میں جاری رہی ہے۔ اس نظریہ کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان جو کچھ کماتا ہے یا اپنے لئے جو کچھ حاصل کرتا ہے وہ محض انسانی محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس لئے جو شخص محنت کرکے کوئی چیز وجود میں لاتا ہے اس کو حق ہے کہ وہ اس کا مالک بنے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ جو لوگ خود محنت کرکے کچھ حاصل کر رہے ہیں وہ تو گویا اپنی محنت کی جائز کمائی لے رہے ہیں اور جو لوگ دوسروں کو مزدور رکھ کر ان سے کوئی کام کراتے ہوں اور پھر اس کام کے منافع سے دولت حاصل کرتے ہوں وہ گویا دوسروں کی محنت سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جو کچھ دوسروں نے کمایا تھا اس پر اپنا قبضہ کر لیتے ہیں۔ مارکس کے نزدیک یہی وہ معاشی قانون ہے جس نے سماج میں غیر معمولی اونچ نیچ پیدا کی ہے۔ اور اس کا سلسلہ اس وقت سے شروع ہوا ہے جب سے ذرائع پیداوار پر نجی ملکیت تسلیم کی گئی اور ایک شخص کو یہ حق دیا گیا کہ وہ دوسروں کو مزدور رکھ کر ان سے کام لے ۔ اس طرح ایک آدمی بہت سارے آدمیوں کو کام پر لگا کر ان کی محنت کے حاصل پر قبضہ کر لیتا ہے اور سرمایہ دار بن جاتا ہے۔ وہ مزدوروں کو ان کے کام کے معاوضہ میں تھوڑی سی مزدوری دیتا ہے اور ان کی کمائی کے بقیہ حقہ کو خود لے لیتا ہے۔ سادہ الفاظ میں کسی مزدور کے حاصل محنت کی وہ مقدار جو مزدور کو نہیں دی گئی اور جس پر سرمایہ دار نے قبضہ کر لیا ، اسی کا نام قدرِ زائد ہے جو مارکس کے معاشی قانون کا عنوان ہے۔ مارکس اس حالت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ اس کے نزدیک کسی شخص کو یہ اجازت نہیں دینی چاہئے کہ وہ دوسروں کو اپنے یہاں مزدور رکھ کر ان سے کام لے۔ ہر شخص خود کام کرے اور اپنی محنت کے ذریعہ وہ جو کچھ حاصل کرتا ہے بس اس کا وہ مالک بنے۔ اس طرح جب دوسروں کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page