Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکسزم کی نظریاتی ناکامی

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

مارکسزم کی نظریاتی ناکامی مارکس انیسویں صدی کی دوسری دہائی میں پیدا ہوا۔ اور اس کے آخر میں اس کی وفات ہوئی۔ یہ زمانہ یورپ میں صنعتی انقلاب کے انتہائی عروج کا زمانہ تھا۔ بھاپ اور بجلی سے چلنے والی مشینوں کی ایجاد نے بے شمار انسانوں کو روزگار سے محروم کرکے صنعت و تجارت کا پورا میدان تھوڑے سے مل مالکوں اور کارخانہ داروں کے حوالہ کر دیا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا چند لوگ سرمایہ دار اور باقی تمام لوگ ان کے خریدار بن کر رہ گئے ہیں۔ اس صورتِ حال نے یورپ کے ذہن کو شدید طور پر متاثر کیا۔ اس کے حل کے لئے مختلف تدبیریں سوچی جانے لگیں۔ بالآخر مارکس پیدا ہوا جس نے سرمایہ داری کے خلاف یورپی ذہن کے ردِ عمل کو ایک فلسفہ کی شکل میں مرتب کر ڈالا۔ یہ فلسفہ دراصل استحصال کی ایک نئی شکل تھی جس کا مطلب خود مارکس کے لفظوں میں یہ تھا کہ بے دخل کرنے والے طبقوں کو بے دخل کر دیا جائے۔ ۱۔ اس نے صرف یہی ثابت نہیں کیا کہ ایسا ہونا چاہئے ، بلکہ یہ بھی دعویٰ کیا کہ تاریخ کا تقاضا ہے کہ ایسا ہی ہو۔ اس کے سوا کچھ اور ہونا ممکن نہیں ہے۔ برٹرینڈرسل کے الفاظ میں " وہ سوشلسٹ انقلاب کا علمبردار نہیں پیش گوئی کرنے والا ہے"۔ ۲ مارکس نے جب اپنے پیش رو فلسفیوں پر تنقید کر کے اپنا نظریہ پیش کیا تو اس زمانہ میں اُس کو اس زور شور کے ساتھ لیا گیا گویا کہ یہ آخری سچائی ہے جو انسان نے دریافت کی ہے۔ ہیگل پر تنقید کرتے ہوئے انگلس لکھتا ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page