Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکسزم کی نظریاتی ناکامی

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

"ہیگل کی بیشتر تفصیلات میں پیوند، بناوٹ اور آور دپائی جاتی ہے۔ ایک لفظ میں وہ سب کی سب غلط ہیں۔ ہیگل کا سسٹم بہت بڑی نارسائی تھی مگر یہ اپنی قسم کی آخری نارسائی تھی" ۵۸ اس وقت یہ سمجھا جا رہا تھا کہ انسان نے آخری طور پر انسانیت کے راز کو پا لیا ہے اور اب صرف اتنی سی دیر ہے کہ اس کو زندگی میں عملاً جاری کر دیا جائے۔ اس وقت اشترا کی حضرات کو اس نظریہ کی سچائی پر اس قدر یقین تھا کہ اس کو نافذ کرنے کے لئے اگر چند کرور انسانوں کو قتل ہو جانا پڑے تو اس کو وہ بہت معمولی چیز سمجھتے تھے۔ کیونکہ ان کے خیال میں دنیا کو مستقل کش مکش سے نکال کر ہمیشہ کے لئے آزاد کر دینے کی یہ بہت معمولی قیمت تھی۔ مگر تجربہ کے بعد معلوم ہوا کہ مارکسزم بھی اسی طرح ایک ناقص نظریہ ہے جس طرح دوسرے سابق فلسفیوں کے نظریات تھے ۔ وقت نے مارکس کے نظریہ کی بہت سی خامیاں ظاہر کر دی ہیں ۔ جن چیزوں پر پہلے صرف نظری بحث کی جاسکتی تھی ۔ آج ہم ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں ۔ مارکس نے اپنے زمانہ کے حالات میں انسانی سماج کا جو تجزیہ کیا تھا وہ بعد کے حالات میں غلط نکلا ۔ اس نے جو طریق کار معین کیا تھا وہ بے کار نظر آنے لگا ۔ اس نے جو حل پیش کیا تھا تجربہ کے بعد وہ ظلم کی بدترین شکل ثابت ہوا ۔ اس طرح بعد کے حالات نے خود ہی ان تمام باتوں کی تردید کر دی جن کی بنیاد پر مارکس نے "مستقبل کے فلسفہ کے اصول " ۵۹ مرتب کئے تھے ۔ یہ گویا مارکسزم کے خلاف تاریخ کا فیصلہ تھا۔ مگر مارکس کے متبعین نے اس فیصلہ کو تسلیم نہیں کیا ۔ ہر بار جب مارکسزم کی کوئی غلطی سامنے آئی تو انھوں نے لفظی الٹ پھیر کے ذریعہ فوراً اس کی تاویل کر دی ۔ اور کہا کہ یہ "مارکسزم کے ذخیرہ میں نئی سچائیوں کا اضافہ" ہے۔ مگر یہ "نئی سچائیاں" در اصل مارکس کی غلطیوں کا اعتراف ہیں جو مزید غلطیوں کے ذریعہ کیا گیا ہے ۔ مارکسزم کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص دن کو رات ثابت کرنے کے لئے اپنا کمرہ بند کر کے کہے کہ دیکھو سورج

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page