مارکسزم کی نظریاتی ناکامی
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
کہیں نظر نہیں آتا۔ اور جب اس سے کہا جائے کہ یہ روشنندان سے جو کرنیں آرہی ہیں وہ کس چیز کا ثبوت ہیں تو وہ جواب دے کہ احمق معمار نے روشنندان کا رخ غلط بنا دیا۔ ورنہ تم دیکھتے کہ کمرہ میں بالکل اندھیرا ہے۔ اور یہ کہتے ہوئے وہ بھول جائے کہ اس دلیل سے وہ خود اپنے پہلے دعوے کی تردید کر رہا ہے ۔ مارکس نے انیسویں صدی کے انگلستان کو سامنے رکھ کر سرمایہ داری پر تنقید کی تھی ۔ یہ سرمایہ داری کا وہ دور تھا جبکہ مزدور کو حقیقی معنوں میں اجرتی غلام بنا کر رکھا جا رہا تھا۔ اور اس سے نہایت قلیل اجرت پر ۱۶، ۱۴۔ اور ۲۰، ۲۰ گھنٹے کام لیا جاتا تھا ۔ اس وقت فی الواقع انسانی زندگیوں سے دولت چوسی جارہی تھی ۔ مارکس کے الفاظ میں مزدور کا سرمایہ زندگی چند خشک لقمے، بوسیدہ چھینڑے اور تاریک جھونپڑی‘‘ کے سوا اور کچھ نہ تھا ۔ مارکس نے اس وقت سرمایہ داروں کے مظالم کی داستان چن چن کر اکٹھا کی اور ان کو اپنی مشہور کتاب ’’سرمایہ‘‘ میں تفصیل کے ساتھ درج کر دیا۔ ایک سوشلسٹ مفکر کے بقول ’’سرمایہ کے بہترین حصے وہ ہیں جو ان اقتصادی واقعات سے بحث کرتے ہیں، جن کا مارکس کو انسائیکلو پیڈیائی علم تھا‘‘۔ ۲۹ جون ۱۸۶۳ء کے آخری ہفتہ میں لندن کے تمام روزانہ اخباروں میں سنسنی پیدا کرنے والے عنوان کے ساتھ ایک خبر شائع ہوئی ’’محض زیادہ کام کرنے سے موت‘‘ اس میں عورتوں کی ٹوپیاں بنانے والی ایک بیس سالہ لڑکی میری این واکلی (Mary Anne Walkley) کی موت کا ذکر تھا۔ جو لباس سازوں کی ایک باعزت فرم میں ملازم تھی اور ایلیزے (Elise) کے سہانے نام والی ایک خاتون کے ہاتھوں لوٹی جارہی تھی۔ یہ لڑکی اوسطاً ۱۴ گھنٹے اور کاروباری دنوں میں اکثر ہیں گھنٹے مسلسل کام کیا کرتی۔ چائے اور قہوہ کا استعمال اس کی گرتی ہوئی قوت کار کو سہارا دے رہا تھا۔ اب موسم عروج پر تھا اور فوری طور پر ان امیر زادیوں کے شاندار لباس تیار کرنے نہایت ضروری تھے جنھیں نئی شہزادی ویلیز کی آمد پر رقص کی اجازت ملی تھی ۔ میری این واکلی نے لگاتا ر ۲۷ گھنٹے کام کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ لڑکیاں اور بھی تھیں جن میں سے تیس لڑکیاں ایک کمرہ میں کام کرتی تھیں اور اس طرح صرف ۱۲ مکعب فٹ ہوا ہر ایک کو ملتی تھی ۔ رات کو وہ دو دو ہوکر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader