Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکسزم کی نظریاتی ناکامی

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

ان تنگ سرنگوں میں پٹرتیں جن میں تختوں کے ذریعہ سونے کے خانے تقسیم کئے ہوئے تھے اور یہ لندن کے بہترین ٹوپیوں کے کارخانوں میں سے ایک تھا۔ میری این واکلی جمد کو بیمار پڑی اور اقرار کو مرگئی۔ ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کرنے کے بعد جیوری کے آگے بیان دیا کہ میری این واکلی کی موت کچا پھچ بھرے ہوئے کمرہ میں زیادہ کام کرنے اور تنگ و تاریک جگہ سونے کے باعث ہوئی ہے۔ مگر جیوری کا فیصلہ یہ تھا کہ مرنے والی مرگئی سے مری ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ کمرہ کی بھیڑ اور زیادہ کام نے اس کی موت کا وقت کچھ قریب کر دیا ہو “ ۵۱ اس قسم کے واقعات سے ” سرمایہ “ کے صفحوں کے صفحے اور باب کے باب بھرے ہوئے ہیں۔ اس طرح کے بھیانک واقعات جمع کرنے سے مارکس کا مقصد یہ تھا کہ اپنے پیروؤں کے دل میں سرمایہ داری کے خلاف شدید نفرت پیدا کر دے اور انھیں تاریخ کی سب سے زیادہ ہولناک جنگ۔ طبقاتی جنگ۔ کے خلاف لڑائی کے لئے تیار کرے، مگر بعد کو معلوم ہوا کہ سرمایہ داری نظام کے خلاف گولہ باری کے لئے اس نے جن چیزوں کو نشانہ بنایا تھا۔ ان میں سے بہت سے نشانے اب اپنی جگہ پر باقی نہیں رہ گئے ہیں۔ آج اگر سرمایہ دارانہ ظلم کی وہ مثالیں ڈھونڈی جائیں جن سے مارکس کی تحریریں بھری ہیں اور جن کے متعلق اس کا خیال تھا کہ مزدور انقلاب ہی ان کا خاتمہ کر سکتا ہے تو ممکن ہے ” اشتراکی جنت “ میں اس کی مثال مل جائے ورنہ عام سرمایہ دار ممالک میں اس کی مثالیں نہیں ملیں گی۔ آج مزدور کی اجرتیں بڑھ چکی ہیں۔ کام کے اوقات گھٹا دیئے گئے ہیں۔ مختلف قسم کے الاؤنسوں کا حق تسلیم کیا گیا ہے ، مزدوروں کی رہائش ، علاج اور دوسری ضروریات کے لئے بہت بہتر انتظامات ہو گئے ہیں۔ مزدوروں کو خود کار خانہ کے منافع اور اس کے نظم و نسق میں شریک کیا جانے لگا ہے ۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ کی تین سو کے قریب کمپنیاں اپنے مزدوروں کو کمپنی کے حصے خریدنے کی آسانیاں مہیا کر رہی ہیں ۔ چنانچہ ۱۹۵۸ء کے آخر تک بیس ہزار مزدور اور ملازم اپنی کمپنیوں کے حصہ دار بن چکے تھے۔ آج کا ماہر مزدور چھوٹے پیمانہ پر خود بھی ایک سرمایہ دار ہوتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page