Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکسزم کی نظریاتی ناکامی

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

پھر سب سے بڑی بات یہ کہ لندن کے مشہور کتب خانہ "برٹش میوزیم" میں ۳۵ سال کے مطالعہ کے بعد مارکس نے سرمایہ داری نظام کے جس "ناگزیر انجام" کا انکشاف "کیا تھا وہ صحیح نہیں نکلا۔ مارکس نے کہا تھا کہ سرمایہ داری نظام ایک بہت بڑے تضاد سے دوچار ہے ۔ یہ مزدور اور سرمایہ دار کا تضاد ہے، اس نظام میں ساری دولت اور ذرائع پیداوار سمٹ کر چند لوگوں کے ہاتھ میں آگئے ہیں اور باقی لوگوں کے لئے اس کے سوا زندگی کی اور کوئی شکل باقی نہیں رہ گئی ہے کہ وہ ان کے اجُرتی غلام بن جائیں۔ ایک طرف مُٹھی بھر سرمایہ دار ہیں جن کے پاس سب کچھ ہے اور دوسری طرف مزدوروں کی بھیڑ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہیں۔ یہ دو مختلف طبقے ہیں جن کا مفاد کہیں بھی ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں ہوتا۔ مارکس نے پیشین گوئی کی تھی کہ صنعتی نظام اس طبقاتی امتیاز کو اور بڑھائے گا۔ اور مزدور اور سرمایہ دار دو مخالف کیمپوں میں تقسیم ہوتے چلے جائیں گے۔ اس نے کہا تھا کہ موجودہ جمہوری نظام میں قوم و وطن کے نام پر امیر و غریب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش بُورژوا کا فریب ہے جس میں پرولتاری طبقہ کا کوئی فائدہ نہیں۔ " قوم اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ وہ ایک آلہ ہے جس کے ذریعہ ایک طبقہ دوسرے طبقہ پر ظلم کرتا ہے۔ خواہ وہ کسی جمہوری حکومت میں ہو یا قدیم شاہی حکومت میں "۔ اسے اس کو یقین تھا کہ قوم و وطن کے نام پر مزدور طبقہ کو مختلف ٹکڑوں میں بانٹنے کا فریب بہت جلد ختم ہو جائے گا اور سب کے سب مزدور ایک ہو جائیں گے ۔ فریڈرش انگلس نے انیسویں صدی کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ " آج تمام ملکوں کے مزدور متحد ہو چکے ہیں "۔ چنانچہ اس زمانہ میں مارکسی مفکرین کا خیال تھا کہ کوئی عالمگیر جنگ چھڑی تو ساری دنیا کے مزدور بیک وقت اپنے اپنے ملک کی سرمایہ دار حکومتوں کے خلاف بغاوت کر دیں گے، اور روئے زمین سے ہمیشہ کے لئے سرمایہ داری نظام کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مگر اس کے برعکس جب پہلی جنگ عظیم (۱۹۱۸-۱۹۱۴) چھڑی تو ہر ملک کے مزدوروں نے مارکسی نظریہ ترک کر کے حکمراں طبقہ کا ساتھ دیا۔ طبقاتی مفاد پر قومی مفاد غالب آگیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page