Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکسزم کی نظریاتی ناکامی

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے اپنے ملک کے سامراجیوں کے ساتھ مل کر دوسرے ملک کے مزدوروں سے جنگ کی۔ اس جنگ سے پہلے دوسری انٹرنیشنل کی ایک کانگریس بیسل (سوئٹزرلینڈ) میں ہوئی۔ جس میں ساری دنیا کے مزدوروں کے نمائندے جمع ہوئے تھے اور انھوں نے "جنگ کے خلاف جنگ " کا اعلان کیا تھا۔ انھوں نے اپنے وطن کی سامراجی حکومتوں کو دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے جنگ شروع کی تو وہ بغاوت کردیں گے۔ مگر لڑائی ہونے کے بعد تجویز بالائے طاق رکھ دی گئی اور مزدوروں کے سامنے ایک نیا نعرہ پیش کیا گیا۔"وطن کی خاطر جنگ "۔ ایسا وطن جو مارکسی منطق کے مطابق مزدور کا نہیں بلکہ سامراج کا وطن تھا۔ نعروں کے اس طرح بدل جانے سے کروڑوں مزدور موت کے گھاٹ اتر گئے۔ ایک ملک کے مزدوروں نے دوسرے ملک کے مزدوروں کو قتل کیا۔ اس واقعہ کا ذکر کمیونسٹ انٹرنیشنل کی چھٹی کانگریس (۱۹۱۸ء) کی قرارداد میں ان لفظوں میں آیا ہے: " ۱۹۱۴ء کی جنگ میں سوشلسٹوں کی بین اقوامی انجمن (دوسری انٹرنیشنل) نہایت شرمناک طریقہ پر ختم کر دی گئی ۔ اس کے لیڈروں نے مارکس اور اینگلز کے کمیونسٹ مینی فیسٹو کے بالکل مخالف راہ اختیار کی جس میں بتایا گیا ہے کہ سرمایہ داری نظام میں پرولتاری طبقہ کا کوئی وطن نہیں ہوتا۔ سٹٹ گارت (Stuttgart) اور بیسل (Basle) کی کانگریس میں جنگ کے خلاف جو تجاویز منظور کی گئی تھیں ان کی مخالفت کی۔ چند ایک کے سوا تمام ملکوں کے مزدور لیڈروں نے جنگی قرضہ کی تائید کی۔ سامراجی مادری وطن دایسی حکومت جس پر سامراجی سرمایہ داروں کا قبضہ تھا، کی حفاظت کے لئے ہتھیار اٹھانے کی تائید کی اور سامراجی جنگ کی مخالفت کرنے کے بجائے اس کے وفادار سپاہی بن گئے۔ مختلف ملکوں میں انقلاب کو کچلا گیا تو اس میں عملی مدد کی، ہنگری میں کامیاب پرولتاری انقلاب کے ساتھ نہایت مزدور طبقہ کی بین اقوامی جماعت جو ۱۸۸۹ء میں قائم کی گئی تھی ۔ سٹالن نے لکھا ہے کہ "ایک طرف مارکس اور اینگلز اور دوسری طرف لینن کے درمیان ایک پورا دور گزر رہا ہے جس میں بلا شرکت غیر دوسری انٹرنیشنل کا بول بالا رہا ہے"۔ پرابلمز آف لینن ازم صفحہ ۴۱۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page