Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکسزم کی نظریاتی ناکامی

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

شرمناک طریقہ پر غداری کی۔ مجلسِ جمعیتہ اقوام میں شریک ہوئے اور غلام ملکوں کے خلاف اپنی سامراجی حکومتوں کی تائید کی۔ انھوں نے سامراجی فوجی قانون پاس کرائے۔ انھوں نے مزدوروں کی ہڑتال کی مخالفت کی۔ وہ سرمایہ داروں کے ڈھنڈورچی اور غلام بن گئے“۔ ان واقعات نے مارکسی تجزیئے کو عملاً بے معنی بنا دیا، دنیا کے مزدور تمام دنیا کے سرمایہ داروں کے خلاف متحدہ محاذ بنانے کے بجائے ہر ملک میں اپنے سرمایہ داروں کے ساتھ ہو گئے تھے۔ اس کے صریح معنی یہ تھے کہ اقتصادی بنیادوں پر تاریخ کے لازمی سفر کا جو نظر یہ پیش کیا گیا تھا وہ صحیح نہ تھا۔ چنانچہ اس کی توجیہہ کے لئے مارکسیوں نے اعلان کیا کہ بیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ سرمایہ داری نظام میں چند خاص تبدیلیاں آگئی ہیں۔ لینن نے اپنی مشہور کتاب ”امپیریلزم“ میں بہت سے اعداد و شمار اور معلومات جمع کیں اور ثابت کیا کہ یہ سرمایہ داری نظام کا ”سامراجی دور“ ہے جو ۱۹۰۲ء کے لگ بھگ سے شروع ہوتا ہے۔ اس نے سامراجی دور کی بہت سی خصوصیات گنائیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ صنعتی سرمایہ داری زیادہ وسیع ہو کر اجارہ داری کے دور میں داخل ہوگئی ہے۔ اس طرح سرمایہ داروں کا منافع بہت بڑھ گیا ہے جس کا اثر مزدور تحریک پر بھی پڑتا ہے اور جن کے پاس مارکس کے الفاظ میں ”اپنی بیڑیوں کے سوا“ کھونے کے لئے کچھ نہ تھا ۔ وہ اب خود بھی سرمایہ داروں کی طرح خوش حال ہو گئے ہیں۔ مارکس نے انگلستان میں سرمایہ داری نظام کی تشریح کرتے ہوئے ایک جگہ لکھا تھا کہ انگلستان پہلا ملک ہے جس نے مشین کی بنی ہوئی چیزیں دنیا کے دوسرے حصوں میں پہنچائیں اور اس طرح جو نفع ہوا اس سے مزدوروں کو بھی حصہ ملا۔ بلکہ بعض ماہر مزدوروں اور سوتی کپڑے کی صنعت میں کام کرنے والوں کا معیار زندگی دوسرے ممالک کے مزدوروں سے کافی بڑھ گیا۔ اور یہ طبقہ اپنے کو سرمایہ داروں کی لوٹ کھسوٹ سے وابستہ کرنے لگا۔ لینن نے بتایا کہ یہ صورتِ ہراس سرمایہ دار ملک میں پیش آتی ہے جو سامراجی دور میں داخل ہو جاتا ہے اور مزدور جو خوش حال ہو جاتے ہیں خاص طور پر اس گروہ کے لیڈر) وہ موقع پرست بن جاتے ہیں اور موقع ملنے پر اپنے پورے طبقہ کی طرف سے مل مالکوں سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ ۷ا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page