مارکسزم کی نظریاتی ناکامی
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
کس قدر عجیب ہے یہ تاویل جس کے ذریعہ تاریخ کے مادی نظریہ کی صفائی کی گئی ہے اور سرمایہ داری نظام کے خلاف طبقاتی لڑائی جاری رکھنے کا بہانہ تلاش کیا گیا ہے۔ ایک طرف مارکسزم کا دعویٰ ہے کہ سرمایہ داری نظام تاریخ کے اقتصادی سفر کی ایک مخصوص منزل ہے جس کی ترقی سے محنت اور سرمایہ کا تضاد زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے دوسری طرف یہ بھی دعویٰ ہے کہ اسی عمل سے یہ تضاد کم ہو جاتا ہے۔ گویا رات کے آنے سے کبھی تاریکی آتی ہے اور کبھی رات آتی ہے تو روشنی اور بڑھ جاتی ہے۔ مارکسزم کے تضاد کو رفع کرنے کی کوشش میں اس کے اندر مزید تضادوں کا اضافہ کر دینا یہی لینن کا وہ سب سے بڑا فکری کارنامہ ہے جس کو مارکسی تعلیمات سے جوڑنے کے لئے ”مارکسزم لینن ازم“ کی اصطلاح وضع کی گئی اور کہا گیا کہ ”لینن ازم مارکسزم سے انحراف نہیں بلکہ اس کی ترقی یافتہ شکل ہے۔“ ایک کمیونسٹ مصنف نے لکھا ہے: ”لینن ازم کو نہ ماننا خود مارکسزم کا انکار کرنا ہے۔“ روز الکسمبرگ نے اسی قسم کے واقعات کو سامنے رکھ کر کہا ہے: ”روسی کمیونسٹوں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے سوشلسٹ خیالات کے ذخیرہ میں نئی سچائیوں کا اضافہ کیا ہے، مگر یہ سچائیاں دراصل وہ غلطیاں ہیں جو انھیں روس میں حالات کے تحت مجبورا کرنا پڑی تھیں۔“ لینن کی تاویل کے اس نقص سے اگر قطع نظر کر لیا جائے جب بھی یہ تاویل اُس کے خلاف جاتی ہے۔ یہ دراصل اشتراکی فلسفہ کی پوری بنیاد کو ڈھارہی ہے۔ مارکس نے ماضی کے تمام قوانین کو یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ کوئی قانون ایسا نہیں ہو سکتا جو ہر زمانہ اور ہر قسم کے حالات کے لئے درست ہو۔ اس نے کہا تھا کہ ”انسانی سوسائٹی میں جب بھی اس قسم کے غیر سائنٹفک نقطہ نظر سے کام لیا جاتا ہے تو ہمیشہ تباہی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے کیونکہ ”تمام عقیدے ایک خاص زمانہ کی طبقہ واری زندگی کا عکس ہوتے ہیں اور بعد کے حالات میں جب کہ زندگی کی سابق نوعیت بدل چکی ہوتی ہے وہ عقیدے بھی بے کار ہو جاتے ہیں، بلکہ ترقی کے راستہ میں حائل ہوتے ہیں۔“ مگر مارکسزم کے متعلق ان کا دعویٰ تھا کہ اس نے انسان کو قوم پرستی اور فرسودہ عقیدوں سے ہمیشہ کے لئے نجات دلادی ہے۔ اس نے ساری کائنات کا تجزیہ کر کے نہ صرف حال کی مکمل اور صحیح تصویر پیش کی ہے بلکہ مستقبل کی راہِ عمل بھی بتا دی ہے مگر بعد کے تجربات سے یہ دعویٰ غلط ثابت ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader