Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکسزم کی نظریاتی ناکامی

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

مارکس نے جن حالات کے پیش نظر انسانیت کے مسئلہ پر غور کیا تھا وہ حالات ہی بدل گئے۔ سرمایہ داری نظام سامراجی نظام کے مرحلہ میں پہنچ گیا اور مل مالکوں کے خلاف مزدوروں کی ناقابل صلح کشمکش موافقت اور ہم آہنگی میں تبدیل ہوگئی۔ اس طرح جب حالات بدل گئے تو خود مارکسی منطق کے مطابق وہ حل بھی بے معنی ہو گیا جو گزرے ہوئے حالات کے لئے اس کے اندر رہ کر سوچا گیا تھا۔ اس صورت حال نے مارکسیوں کی وہ تمام تنقیدیں جو انھوں نے ماضی کے فلسفوں کو غلط ثابت کرنے کے لئے ان پر کی تھیں خود مارکسزم پر چسپاں کر دیں۔ مگر مارکسی حضرات یہ ماننے کے لئے تیار نہ تھے کہ اشتراکی پیغمبر کا حل کبھی بے کار بھی ہو سکتا ہے، اس قسم کے تمام تضادات کو رفع کرنے کے لئے انھوں نے برجستہ ایک نئی تعدیل ایجاد کرلی۔ انھوں نے کہا: " سوسائٹی کے ارتقار کا سائنٹفک نقطہ نظر ، دوسرے تمام سائنٹیفک علوم کی طرح ، تجربہ، تاریخی حقائق اور اطراف کی دنیا پر مبنی ہے جو ہم کو گھیرے ہوئے ہے۔ اس لئے مارکسزم آخری طور پر تکمیل یافتہ نظریہ نہیں ہے۔ جوں جوں تاریخ ترقی کرتی ہے، انسان زیادہ تجربات حاصل کرتے ہیں۔ اس کے مطابق مارکسزم بھی ہمیشہ ترقی کرتی رہتی ہے اور نئے حقائق جو روشنی میں آتے ہیں، ان پر اس کا انطباق ہوتا رہتا ہے ۔" دوسرے لفظوں میں جس طرح کیمیا اور طب اور فلکیات وغیرہ سائنٹفک علوم ہیں۔ ٹھیک اسی طرح انسانی سماج کی بھی ایک سائنس ہے۔ کیمیا اور طبیعیات طبیعی سائنس ہیں، حیوانات اور طب وغیرہ حیاتیاتی سائنس ہیں۔ اسی طرح مارکسزم معاشرتی سائنس ہے۔ جس طرح دوسرے علوم میں انسان تجربہ اور مشاہدہ کے ذریعہ نئے نئے حقائق دریافت کرتا رہتا ہے اور اس کو ترقی دیتا ہے اسی طرح سماج کے بارہ میں مارکس کا فلسفہ بھی حالات اور تجربات کے ساتھ ترقی کرتا رہتا ہے۔ یہ توجیہہ پیش کرکے مارکسی حضرات خوش ہیں کہ انھوں نے ہمیشہ کے لئے اپنی مشکل حل کرلی۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر انسانیت کا علم بھی طبیعی علوم کی طرح ایک علم ہے جو ہمیشہ تجربات اور مشاہدات سے بدلتا رہے گا تو پھر آپ طبقاتی جنگ اور ذاتی ملکیت کی تنسیخ کے حل کو جو انیسویں صدی میں سوچا گیا تھا کس دلیل کی بنا پر اسے بیسویں صدی کی نسل پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کو اقرار ہے کہ انسان کا مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جس کو ابھی آخری طور پر انسان سمجھ نہیں سکا ہے۔ پھر انسان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page