Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکسزم کی نظریاتی ناکامی

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

اور انسان کو باہم ٹکرانے اور لوگوں کو ان کی ملکیتوں سے محروم کرنے کا انتہائی اقدام آپ کس علم یقین کی بنا پر کر رہے ہیں۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ جس چیز کو آپ حل کہہ رہے ہیں وہ آپ کی ایک غلطی ہو جو آپ نے نا تمام مطالعہ اور غلط معلومات کی روشنی میں سوچ لیا ہو۔ پھر ماضی کی غلطی کو مستقبل تک وسیع کرنے کے لئے آپ کے پاس کیا دلیل ہے۔ جب آپ خود یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ انسانیت کا حقیقی علم اور اس کے لئے ابدی قانون ابھی تک دریافت نہیں کیا جا سکا ہے۔ انسان اپنے تجربہ اور مطالعہ سے ہمیشہ اس کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ ایسی حالت میں آپ کے لئے یہ تو جائز ہے کہ لائبریریوں اور کتب خانوں میں آپ آخری علم تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھیں۔ مگر آپ کو کیا حق ہے کہ دوران تحقیق میں جو تمام معلومات آپ کو حاصل ہو جائیں ، آپ انسانی زندگی میں ان کا ہولناک تجربہ شروع کر دیں۔ کیا انسانی زندگی بھی کوئی مردہ لاش ہے جس کو مارکسی کالج کے طالب علموں کے حوالہ کر دیا جائے تاکہ وہ اپنے تجربات کے لئے اس کی چیر پھاڑ کرتے رہیں۔ اشتراک لٹریچر پورا کا پورا اسی قسم کے تضادات سے بھرا ہوا ہے۔ مارکسی مفکرین اپنے نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے ایک دعویٰ کرتے ہیں۔ اور بعد کو جب حقائق اس کے خلاف جاتے ہوئے نظر آتے ہیں تو پوری ڈھٹائی کے ساتھ فوراً ایک دوسرا دعویٰ کر دیتے ہیں جو پہلے دعوے کی عین ضد ہوتا ہے۔ میں یہاں بتاؤں گا کہ مارکسزم کی نظریاتی بنیاد کس قدر کمزور ہے اور کس طرح وہ اپنی تردید آپ کر رہی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page