تاریخی مادیت کا تجزیہ
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخی مادیت کا تجزیہ مارکسی سوشلزم، ایک اعتبار سے، تضاد فکر کا دوسرا نام ہے۔ ایک طرف اس کا کہنا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں استحصال (Exploitation) اس لئے قائم ہے کہ ذرائع و وسائل کچھ افراد کے ہاتھ میں ہیں۔ مگر دوسری طرف اس کی تجزیہ یہ ہے کہ ذرائع و وسائل کو مزید اضافہ کے ساتھ مرتکز کرکے ایک محدود طبقہ (کپکونسٹ حکمرانوں) کے حوالے کر دیا جائے۔ یہ فکری تضاد گویا ایک داخلی شہادت ہے جو مارکس کے پورے فکر کو غلط اور بے معنی ثابت کردیتا ہے۔ اشتراکی لٹریچر میں جہاں ماضی اور حال کے سماج کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس کو دیکھئے تو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا انسان کتے سے زیادہ خود غرض اور بھیڑیئے سے زیادہ خو نخوار ہے۔ اس کو تاجر اور صنعت کار بننے کا موقع ملتا ہے تو وہ دوسروں کو لوٹنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کو اقتدار مل جاتا ہے تو اپنے جیسے انسانوں کو غلام بنا لیتا ہے۔ اس کو سرمایہ داروں اور وقت کے حکمرانوں کی طرف سے کچھ نفع کا لالچ دے دیا جائے تو محض ذاتی فائدے کے لئے وہ ہزاروں انسانوں کے ساتھ غداری کرنے سے بھی نہیں چوکتار غرض قوت اور اسباب و ذرائع کا تھوڑا سا حصہ بھی کسی انسان کو بگاڑ دینے کے لئے کافی ہے۔ اس نظریئے کے مطابق ساری انسانی تاریخ لوٹ کھسوٹ کی تاریخ ہے۔ دنیا اس کی نگاہ میں کتوں کا دستر خوان ہے۔ جہاں معاشی مفاد اور مادی خوش حالی کے لئے سارے انسان چھین جھپٹ کر رہے ہیں۔ بڑے بڑے مصلحین اور پیغمبر سے لے کر عوام تک کسی کے سامنے اس کے سوا کوئی دوسری چیز نہیں، جس کو موقع مل گیا ہے وہ لوٹ رہا ہے اور جو ابھی محروم ہے وہ اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader