تاریخی مادیت کا تجزیہ
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
دہ بھی لوٹنے والوں کی صف میں پہونچ جائے ۔ مارکس کے نزدیک انسان اگر مذہب و اخلاق کی بات کرتا ہے تو صرف اس لئے کہ اپنی مکاریوں پر پردہ ڈالے ۔ وہ قانون بناتا ہے تو اس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ اپنی لوٹ کھسوٹ کے لئے قانون کی حمایت حاصل کرے ۔ وہ فلسفہ کا درس دیتا ہے تو صرف اس لئے کہ اپنی ظالمانہ کاروائیوں کے لئے علمی دلیل فراہم کرے ۔ حتیٰ کہ وہ ازدواجی زندگی اختیار کرتا ہے تو اس سے بھی اس کی غرض صرف یہ ہوتی ہے کہ ناجائز طریقے سے سمیٹی ہوئی دولت کے لئے اپنا ایک وارث چھوڑ جائے ۔ یہ سارے کام صرف سرمایہ دار لوگ ہی نہیں کرتے جو اشتراک کی شریعت میں سب سے بڑے مجرم ہیں بلکہ خود غریب طبقہ کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے ۔ چنانچہ مزدوروں کو اگر اپنے کارخانہ دار سے کچھ نفع کی امید ہو جائے تو وہ بھی اپنے کو سرمایہ داروں کی لوٹ کھسوٹ سے وابستہ کرنے لگتے ہیں ، جیسا کہ انگلستان کے بارے میں مارکس نے لکھا ہے ۔ اسی طرح چھوٹے کسانوں کی انجمن امداد باہمی کے بارہ میں مارکس نے لکھا ہے کہ وہ خوش حال کسانوں کے لئے تو بہت کچھ کرتی ہے مگر غریب کسانوں کی بہت بڑی تعداد کے لئے اس کا کرنا نہ کرنا برابر ہے ، یہ انجمنیں خود بھی اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کا استحصال کرنے لگتی ہیں ۔ ۵ھ اشتراک کی لٹریچر پچھلی تاریخ کے بارے میں اس طرح کے بیانات سے بھرا ہوا ہے ۔ مارکسی لٹریچر کا دوسرا حصہ وہ ہے جس میں اس خیالی سماج کا نقشہ پیش کیا گیا ہے جو اشتراکیت اپنے دعوے کے مطابق مستقبل میں تعمیر کرنا چاہتی ہے ، یا دوسرے لفظوں میں جو مارکسی تشریح کے مطابق مستقبل آنے والا ہے ۔ یہ سماج مارکس کے نزدیک وہ سماج ہے جہاں ملکیت کے قانون کو ختم کر دیا جائیگا ۔ اور سرمایہ حاصل کرنے کے تمام ذرائع کو ریاست کی تحویل میں دیدیا جائے گا ۔ اشتراکیوں کے نظریہ ایک جملہ میں یوں ادا کر سکتے ہیں ــــ افراد کی ذاتی ملکیتوں کو ختم کر کے ان کو مزدور نمائندوں کے ہاتھ میں دیدینا اور اس طرح مزدوروں کی ڈکٹیٹر شپ قائم کرنا ۔ اشتراکیت کا دعویٰ ہے کہ ملکیت کی تنسیخ کے بعد سارے جھگڑے ختم ہو جائیں گے اور انسانیت ہمیشہ کے لئے بدحالی اور جنگ سے نجات پا جائے گی ۔ اس نظام میں آدمی کی حد تک بدل جائے گا کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں ابتداً سیاسی اور اقتصادی معاملات کی ڈکٹیٹر شپ دی جائے گی کچھ دنوں کے بعد وہ خود ہی اپنے تمام اختیارات سے دست بردار ہو جائیں گے ۔ سماج کے تمام افراد اس قدر ٹھیک اور درست ہو جائیں گے کہ عدالت اور پولیس کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہے گی ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader