تاریخی مادیت کا تجزیہ
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
مارکس نے پچھلی انسانی تاریخ کا جو تجزیہ کیا ہے اس کے تحت اگر وہ یہ تجویز کرتا کہ روئے زمین سے ہمیشہ کے لئے انسانی نسل کا خاتمہ کر دیا جائے تو یہ بات خواہ کتنی ہی غلط ہو، مگر ہم کہہ سکتے تھے کہ اپنے تجزیے کے مطابق وہ جس نتیجہ پر پہنچ سکتا تھا اس کو سچائی کے ساتھ اس نے پیش کر دیا ہے۔ مگر جب وہ کہتا ہے کہ ذرائع پیدا وار کو عام لوگوں سے چھین کر حکومت کے قبضہ میں دے دیا جائے تو دراصل وہ اتنے بڑے تضاد کا مظاہرہ کرتا ہے جس کی امید ایک صحیح الدماغ شخص سے نہیں کی جاسکتی۔ ایک طرف تو وہ کہتا ہے کہ کسی سماج میں زمین ، کارخانے ،مشینیں اور دوسرے ذرائع پیدا وار جن لوگوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں پورا سماج ان کا غلام بن جاتا ہے ،مگر اٹھیں چیزوں کو جب وہ نجی سرمایہ داروں سے چھین کر مزدور ڈکٹیٹروں“ کے ہاتھ میں دے دیتا ہے تو اس کے نزدیک ساری برائی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اور انسانیت ہمیشہ کے لئے سیاسی،معاشی اور تمدنی غلامی سے نجات پا جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی تلوار ہے جو نجی قبضہ کے طور پر کسی کے پاس ہو تو وہ کاٹتی ہے ، لیکن اگر اس کو سماجی نمائندوں“ کے ہاتھ میں دیدیا جائے تو اس کی دھار کند ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن ذرائع کو پا کر مٹھی بھر سرمایہ داروں کا یہ حال ہوا ہے انھیں ذرائع کو جب مٹھی بھر کامریڈ اپنے ہاتھ میں پائیں گے تو آخر ان کا حال اس سے مختلف کیوں ہوگا۔ مارکسی نظریہ کے مطابق قدیم ترین انسانی سماج اشتراکی سماج تھا جو لوٹ کھسوٹ اور ظلم سے پاک تھا۔ لے مگر انھیں میں سے کچھ لوگوں کے پاس جب دوسروں سے زیادہ ذرائع و وسائل اکٹھا ہو گئے تو وہ ظالم اور لٹیرے بن گئے۔ پھر موجودہ زمانے کے سوشلٹ سماج میں جن لوگوں کو اس سے بہت زیادہ ذرائع و وسائل کا چارج دیا جائے گا وہ آخر کیوں ظالم اور لٹیرے نہیں بنیں گے۔ یہ ایک عظیم تضاد ہے جس کو دور کرنے کے لئے مارکس نے تاریخی مادیت کے نظریہ (Historical materialism) سے مطلع ہے مارکس کا فلسفہ جو اس نے کائنات اور انسان کی تشریح کے لئے مرتب کیا ہے وہ محض کائنات اور انسان کی تشریح نہیں کرتا بلکہ اس سے بڑھ کر وہ اس حل کو صحیح ثابت کرتا ہے جو مارکس نے انسانی زندگی کے لئے پیش کیا ہے۔ اور سماجی آپریشن کے متعلق ان کارروائیوں کی توجیہہ کرتا ہے جو مارکس نے تجویز کی ہیں ۔ ڈار دینی نظریہ کے مطابق دنیا ایک زمانہ میں بے جان مادہ تھی ۔ پھر جان دار مادہ پیدا ہوا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader