Urdu book · سوشلزم اور اسلام

تاریخی مادیت کا تجزیہ

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

اور اس کے ارتقا کے دوران میں نباتات اور حیوانات وجود میں آئے۔ آگے چل کر ان میں سوچنے کی صلاحیت پیدا ہوئی ۔ حیوان کے ارتقا کی آخری کڑی انسان ہے ۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ شعور سے پہلے مادہ موجود تھا ۔ مادہ پہلے پیدا ہوا اور اس کے اندر شعور بعد میں آیا۔ دوسرے لفظوں میں شعور مادہ کو پیدا نہیں کرتا بلکہ مادہ کے ارتقا کے ایک خاص دور میں خود بخود اس کے اندر شعور آ جاتا ہے۔ مارکس نے اس مفروضہ کو انسانی سماج کے مطالعہ کے لئے استعمال کیا اور اس کو بعینہ اس کے اوپر چسپاں کر دیا۔ مادہ کی جگہ اس نے معاشی حالات کو دی اور یہ دعویٰ کیا کہ " انسان کے شعور سے اس کی ہستی وجود میں نہیں آتی بلکہ یہ اس کی ہستی ہے جس سے اس کا شعور وجود میں آتا ہے"۔ لہٰہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک شخص صحیح یا غلط جو رویہ اختیار کرتا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ اس کی خواہش پہلے سے اس کے ذہن میں موجود تھی یا اس نے الگ سے سوچ کر یہ طے کیا تھا کہ اسے ایسا کرنا ہے، بلکہ آدمی کے تمام خیالات اس کی معاشی زندگی کا عکس ہوتے ہیں۔ جس طرح آئینہ میں وہی عکس پڑے گا جو اس کے سامنے ہو اسی طرح ذہن میں وہی خیالات پیدا ہوں گے جو معاشی حالات کے اندر پہلے سے موجود ہیں۔ کسی دور میں معاشی پیدا وار کے جو طریقے رائج ہوتے ہیں اسی کے مطابق انسان کے عادات و اخلاق بنتے ہیں اور وہی آدمی کے بھلے یا برے رویہ کو متعین کرتے ہیں۔ کائنات کی تمام چیزیں اطراف کے حالات سے متاثر ہوتی ہیں۔ ہر چیز پر تپش ، موسم ، ہوا کے دباؤ اور دوسری بہت ساری چیزوں کا اثر پڑتا ہے۔ اسی طرح انسانی سوسائٹی خارج کے مادی ماحول سے متاثر ہوتی ہے۔ اور اس کے مطابق کوئی شکل اختیار کرتی ہے لینن نے اسی بات کو اپنے لفظوں میں اس طرح کہا ہے: " بورژوا عالموں کے نزدیک جو عمل محض ایک جنس کا دوسری جنس سے تبادلہ ہے وہ مارکس کے نزدیک انسانوں کے باہمی تعلق کو ظاہر کرتا ہے"۔ اس تصور کے مطابق عمل پہلے ہوتا ہے اور اصول و نظریات اس کے بعد وجود میں آتے ہیں۔ عملی طریقے جن سے آدمی اپنی روزی حاصل کرتا ہے وہی اس کے خیالات کی بنیاد بنتے ہیں، انہی پر سیاست اور تمدن کا پورا ڈھانچہ کھڑا ہوتا ہے ۔ ہر زمانہ میں جو اصول و نظریات رائج ہوتے ہیں اور جو ادارے قائم ہوتے ہیں ان کی حیثیت اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتی کہ وہ اس دور کی معاشی زندگی کا عکس ہوتے ہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page