Urdu book · سوشلزم اور اسلام

تاریخی مادیت کا تجزیہ

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

اس طرح مارکس نے اس بات کی توجیہ فراہم کی کہ کیوں اب تک تمام پچھلے سماج ـــ ابتدائی سماج کے بعد ـــ ظلم اور لوٹ کھسوٹ پر مبنی تھے اور کیوں آنے والے سوشلسٹ سماج انصاف اور باہمی ہمدردی پر مبنی ہوگا۔ اس نے بتایا کہ انسان ظالم اور لٹیرا اس لئے نہیں تھا کہ پہلے سے اس کے اندر اس کا ارادہ موجود تھا یا اس کے دماغ نے اس سے کہا تھا کہ تم ایسے ہی بنو بلکہ اس کی ذمہ داری دراصل ان معاشی حالات اور اس طریقہ پیداوار پر ہے جو اب تک دنیا میں رائج تھے ۔ لوگوں کی ذہنیت اور ان کا اخلاق بدل سکتا ہے اگر ان کی مادی زندگی کو بدل دیا جائے ، اس طریقہ کو بدل دیا جائے جس سے وہ روزی حاصل کرتے ہیں ۔ دنیا میں اس وقت ملکیتی نظام رائج ہے ، یعنی دولت حاصل کرنے کے ذرائع افراد کے قبضہ میں ہیں ۔ مثلاً کھیتی ہے تو اس کی شکل یہ ہے کہ ہر کھیت والا اپنے اپنے قطعہ پر الگ الگ کھیتی کرتا ہے۔ یہ طریقہ پیدا وار لازمی طور پر افلاس پیدا کرتا ہے اور باہمی نفرت اور خود غرضی سکھاتا ہے ۔ اپنے اپنے کھیتوں پر الگ الگ ہل چلانے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی کو صرف اپنے مفاد سے دل چسپی ہو ۔ اس کو بدل کر اگر مشترکہ کاشت کا نظام رائج کر دیا جائے تو پیداوار کا محرک انفرادی نفع کے بجائے اجتماعی نفع بن جاتا ہے ۔ بیج بونے اور ہل چلانے کا عمل صرف زمین سے غلہ اگانے کا عمل نہیں ہے بلکہ وہ کسان کے ذہن کی تربیت بھی کرتا ہے، انفرادی طریق کاشت میں آدمی صرف اپنے لئے کام کرتا ہے ۔ اس لئے یہ طریقہ آدمی کے اندر انفرادی ذہنیت پیدا کرتا ہے ۔ اس کو بتاتا ہے کہ تم صرف اپنے لئے زندہ ہو ۔ اس کے برعکس مشترکہ کاشت کا طریقہ ہو تو ایک کا مفاد دوسرے کے مفاد سے وابستہ ہو جائے گا۔ آدمی مل جل کر کام کریں گے ۔ صرف اپنے لئے زندہ رہنے کے بجائے وہ سب کے لئے زندہ رہیں گے۔ اس عمل سے آدمی کے اندر اجتماعی ذہنیت پیدا ہوگی ، اس کے اندر یہ احساس ابھرے گا کہ اس کی زندگی پورے سماج کے ساتھ وابستہ ہے ۔ یہی حال ضروریات زندگی سے متعلق دوسری چیزوں کا ہے ۔ اگر لوگ چیزیں اس لئے بنائیں کہ ان سے اپنی ضرورت پوری کرنی ہے ۔ تو اس سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی ۔ اس کے ہر عکس اگر چیزیں اس لئے بنائی جانے لگیں کہ ان کو دوسروں کے ہاتھ بیچ کر نفع کمانا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر آدمی دوسرے آدمی کو لوٹنا چاہتا ہے ۔ ہر آدمی اس لئے عمل کر رہا ہے کہ وہ اس عمل کو دوسرے کی جیب خالی کرنے کا ذریعہ بنائے ۔ پھر جب قانونِ ملکیت کے تحت کچھ لوگ زیادہ سرمایہ اکٹھا کر لیتے ہیں تو وہ بڑے بڑے کارخانے کھولتے ہیں جن میں ہزاروں آدمی کام کرتے ہیں ۔ اس مرحلہ میں آکر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page