Urdu book · سوشلزم اور اسلام

تاریخی مادیت کا تجزیہ

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

ملکیتی نظام انتہائی بھیانک صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس طرح انسانی محنت کے استحصال کا ایک عظیم سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس طریق پیدائش سے افلاس، باہمی نفرت، طبقاتی کش مکش اور بالآخر انسان اور انسان میں جنگ چھڑ جاتی ہے۔ او برائن (O'Brein) نے کہا ہے : " انسان کی یہ خواہش کہ وہ دوسرے کی محنت سے فائدہ اٹھائے انسانیت کا بنیادی گناہ ہے۔ سب گناہ اسی ایک گناہ سے پیدا ہوتے ہیں " اب اگر سوسائٹی کی مشترک ملکیت کے کارخانے قائم کئے جائیں تو اس میں کام کرتے ہوئے سب کے جذبات یکساں ہوں گے ، نہ کوئی مالک ہوگا نہ کوئی مزدور۔ ہر شخص یہ سمجھے گا کہ وہ ایک بڑے خاندان کا ممبر ہے۔ منافع میں سب کو اپنی محنت کا پورا حصہ ملے گا اور باہمی نفرت اور اونچ نیچ پیدا ہونے کے امکانات ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائیں گے۔ اس بنا پر اشتراکیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ انسان کی تمام اخلاقی برائیاں اس کے معاشی ماحول کی خرابیوں سے وجود میں آتی ہیں اور اگر نظام معیشت کو درست کر دیا جائے تو اس کے تحت رہنے والے انسان تمام اخلاقی بیماریوں سے پاک ہو جائیں گے۔ سنالن نے کہا ہے : " معاشی ترقی مزدور طبقہ کو سماجی انقلاب کے قریب لے آئے گی اور نتیجہ کے طور پر مزدور سرمایہ دارانہ نظریات سے تمام رشتے منقطع کرلے گا۔" یہی وہ نظریہ ہے جس کے ذریعہ سے مارکس اور اس کے پیرو اپنے "اجتماعی ملکیت" کے حل کو صحیح ثابت کرتے ہیں ، اور اس بات کی توجیہ کرتے ہیں کہ کیوں پہلے لوٹ کھسوٹ تھی اور کیوں اشتراکی سماج میں وہ نہیں ہوگی۔ مگر یہ نظریہ انسانی ارادہ کی با کلیہ نفی کر دیتا ہے اور اس کو صرف معاشی حالات کی پیدا وار قرار دیتا ہے۔ اس نظریہ کے معنی یہ ہیں کہ آدمی کی اپنی کوئی ہستی نہیں۔ جس طرح صابن کے کارخانے میں صابن ڈھلتے ہیں ، اسی طرح آدمی اپنے ماحول کے کارخانے میں ڈھلتا ہے ۔ وہ سوچ کر کوئی کام نہیں کرتا ، بلکہ جو کچھ کرتا ہے اسی کے مطابق سوچنے لگتا ہے ۔ مارکس نے اس اصول کو ایک مشکل حل کرنے کے لئے تولے لیا ، مگر پھر فوراً سوال پیدا ہوا کہ کیا فی الواقع انسانی فکر معاشی حالات سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے تو خود مارکس کے لئے کیسے ممکن ہوا کہ وہ اپنے وقت کے معاشی حالات کے خلاف سوچ سکے۔ کیا اس نے زمین کا مطالعہ چاند پر جا کر کیا تھا۔ مارکس کے مطابق انسان اپنے مادی ماحول سے آزاد ہو کر سوچ نہیں سکتا۔ مگر اسی آن جب وہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے موجودہ نظام کی غلطی معلوم کرلی ہے ۴۴ ۳

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page