Urdu book · سوشلزم اور اسلام

تاریخی مادیت کا تجزیہ

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

اور میرے پاس ایک ایسا پروگرام ہے جس کے مطابق اسے بدل کر دوسرا نیا نظام تعمیر کیا جاسکتا ہے تو مارکس اپنے نظریہ کی آپ تردید کر دیتا ہے۔ مارکس ایک طرف تو اپنے آپ کو مصلح کے بجائے سائنسداں کی حیثیت سے پیش کرتا ہے، دوسری طرف یہ نعرہ بھی لگاتا ہے کہ ” دنیا کے مزدور متحد ہو جاؤ“ یہ الفاظ یقیناً پیشین گوئی نہیں ہیں بلکہ یہ لوگوں کو دعوتِ عمل ہے۔ اگر مارکس کے نزدیک اشتراکی انقلاب ناگزیر تھا تو اس نے لوگوں سے اس انقلاب کے لئے جدوجہد کرنے کی تلقین کیوں کی۔ یہ مارکسی نظریہ کا پہلا کھلا ہوا تضاد ہے۔ کہنے کو تو ایک دعویٰ کر دیا گیا مگر پھر تاریخ میں اور روز مرّہ کی زندگی میں ایسے بے شمار واقعات نظر آئے جن کی توجیہہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کی جاسکتی تھی کہ ان کو انسانی ارادہ نے انجام دیا ہے جو ماحول سے الگ انسان کے ذہن میں پیدا ہوا تھا۔ مارکس نے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ تمام اخلاقی تصورات اپنے وقت کے معاشی حالات کا عکس ہوتے ہیں تمام چیزوں کو بالکل مادہ کے تابع قرار دے دیا۔ اس کو ثابت کرنا تھا کہ طریقِ پیداوار کی ایک شکل آدمی کو ظالم اور ڈاکو بناتی ہے اور اسی کی دوسری شکل آدمی کو عادل اور دیانت دار بنا سکتی ہے۔ مگر جب اس تنقید سے فارغ ہو کر مارکسی حضرات نے یہ چاہا کہ پرولتاریہ کو اس مقصد کے لئے منظم کریں کہ وہ سرمایہ دار طبقہ سے حکومت اور پیدائش دولت کے ذرائع چھین لے تو انہیں فوراً محسوس ہوا کہ یہاں ان کے پچھلے نظریہ کی نفی ہو رہی ہے، کیونکہ اس نظریہ کی رو سے تو انسان محض وقت کے مادی ہاتھوں میں کھلونا ہے وہ اس کے خلاف سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس کے مقابلہ میں وہ منظم ہو اور اپنے ارادہ سے رائج الوقت حالات کے بجائے کچھ دوسرے حالات لانے کی کوشش کرے۔ حالانکہ وقت کے خلاف کوئی ذہن کسی ایسے معاشی حالات ہی میں پیدا ہو سکتا ہے جو وقت کے خلاف بنایا گیا ہو۔ مارکسی مفکرین نے اس مشکل کو حل کرنے کے لئے ایک نیا نظریہ گھڑلیا۔ فریڈرش انگلس لکھتا ہے : ” تاریخ کے مادی تصور کی رو سے بنیادی طور پر تاریخ میں فیصلہ کن اہمیت سماجی زندگی کے عملی پیدا وار کو ہے۔ اس سے زیادہ نہ تو مارکس نے کبھی کچھ کہا اور نہ میں نے لیکن جب اس کو مسخ کر کے کوئی شخص یہ معنی نکالتا ہے کہ سماجی زندگی میں معاشی عنصر ہی اکیلا ایک فیصلہ کن عنصر ہے تو وہ ہمارے اس بیان کو بے معنی مبہم اور لغو جملہ کی شکل میں تبدیل کر دیتا ہے ۔ اقتصادی حالات تو محض عمارت کی بنیاد ہیں، مگر اس سماجی عمارت کے دوسرے حصے مثلاً طبقاتی جدوجہد کی سیاسی صورتیں اور اس کے نتیجے فتح مند طبقے کی کامیاب جنگ کے بعد دستور حکومت کی صورتیں وغیرہ حتیٰ کہ لڑنے والوں کے ذہن میں ان حقیقی لڑائیوں کے اثرات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page