تاریخی مادیت کا تجزیہ
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
سیاسی، قانونی، فلسفیانہ نظریئے، مذہبی خیالات وغیرہ ـــــــــ یہ تمام چیزیں تاریخی جدوجہد کے دوران میں اثر انداز ہوتی رہتی ہیں اور اکثر حالات میں اس جدوجہد کی صورت کو متعین کرنے میں ان کا اثر غالب رہتا ہے۔“ اے دوسری جگہ اینجلس لکھتا ہے:۔ ”طبیعی علوم اور فلسفہ نے اس پہلو پر کبھی غور نہیں کیا کہ انسان کے مشاغل اور اس کے اعمال اس کی قوتِ فکر اور طرزِ خیال پر ضرور اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ علوم انسان کو ایک طرف رکھتے ہیں اور فطرت کو دوسری طرف۔ لیکن فطرت میں جو تبدیلیاں انسان خود اپنی سرگرمیوں سے پیدا کرتا ہے وہ انسانی فکر کی لازمی اور حقیقی بنیاد ہیں، جتنا اور جس قدر انسان نے خارجی فطرت کو تبدیل یا کرنے میں کامیابی حاصل کی اسی قدر اس کی عقلی قوت میں ترقی ہوئی ہے تاریخ کا طبیعیاتی تصور جو ڈریپر (Draper) اور دوسرے سائنس دانوں کی تحریروں میں ملتا ہے اور جس کی رو سے تنہا خارجی فطرت انسان پر عمل کرتی ہے اور طبعی حالات انسانی تاریخ کی تشکیل کرتے ہیں بالکل یک طرفہ ہے، اس تصور میں یہ فراموش کر دیا گیا ہے کہ انسان بھی فطرت پر عمل کر سکتا ہے، اس پر اثر ڈال سکتا ہے اور اسے تبدیل کرکے زندگی کے نئے حالات پیدا کر سکتا ہے۔“ مشہور کیونسٹ مفکر پالکھانو (Palkhanov) لکھتا ہے: ”مارکس کو اپنے مادہ پرست پیش روؤں سے شکایت تھی کہ انھوں نے اس امر کو نظر انداز کر دیا کہ اگر ایک طرف آدمی اپنے ماحول کا مخلوق ہے تو دوسری طرف ماحول خود اس کی کوششوں سے تبدیل ہو سکتا ہے۔ مارکس کے نظریہ کے مطابق تاریخی واقعات کی دنیا میں مادیت کا کام یہ ہے کہ وہ اس امر کی تشریح کرے کہ کس طرح ماحول انھیں انسانوں کے ہاتھوں تبدیل ہو سکتا ہے جو اس کی پیداوار ہیں۔“ یہ دونوں باتیں بالکل ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے یہ کہا جائے کہ پتھر بے دماغ بھی ہے اور سوچتا بھی ہے۔ اینٹ اپنے معمار کے ہاتھ میں کھلونا بھی ہے اور خود اپنے آپ بھی مکان تعمیر کر سکتی ہے۔ زبان وہی بولتی ہے جو دماغ اس سے بولنے کے لئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader