تاریخی مادیت کا تجزیہ
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
کہے اور کبھی زبان دماغ سے الگ ہو کر خود ہی تقریر شروع کر دیتی ہے۔ مگر اس مہمل نظریہ کو ہم کسی بحث کے بغیر تسلیم کر لیتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر نظریات و تصورات حالات سے الگ بھی ہوتے ہیں وہ خود بھی حالات پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اس کو مخصوص ہیئت عطا کرتے ہیں۔ اگر انسان خود بھی نظرت پر عمل کرتا ہے اس پر اثر انداز ہوتا ہے اور اسے تبدیل کر سکتا ہے اگر وہ صرف ماحول کا مخلوق نہیں بلکہ اس کا خالق بھی ہے۔ تو کس بنیاد پر یقین کیا جائے کہ ذاتی ملکیت کی تنسیخ کے بعد جو معاشی نظام قائم ہوگا اس میں انسان بالکل بدل جائے گا۔ اور لوٹ کھسوٹ کے خیالات اس کے اندر نہیں پیدا ہوں گے۔ جب انسان ماحول سے الگ ہو کر سوچتا ہے اور اس پر اثر انداز ہو سکتا ہے تو کیا یہ ممکن نہیں کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں آپ سوشلسٹ ریاست کی باگ ڈور عطا کریں جن کو سارے ملک کی معاشیات کا انچارج بنائیں ان کا ذہن انہیں مفاد پرستی میں مبتلا کر دے۔ وہ موقع پا کر اسی طرح لوٹ کھسوٹ شروع کر دیں جس طرح جمہوری ممالک کے کارخانہ دار اور منتظمین سلطنت کرتے ہیں۔ جب انسان اپنے ماحول کے مادی حالات کے خلاف بھی کسی چیز کا اعادہ کر سکتا ہے تو سوشلسٹ طریق پیداوار کے متعلق کیسے یقین کر لیا جائے کہ وہ انسان کے طرز فکر اور اس کے اخلاق کو بدل دیں گے ۔ انسان کی خود فکری تسلیم کر لینے کے بعد آپ کے پاس وہ کون سی دلیل ہے جس کی بنا پر آپ کہہ سکیں کہ سوشلسٹ سماج میں انسان ظلم اور خود غرضی کی بات نہیں سوچے گا اور اختیارات کا غلط استعمال نہ کر سکے گا۔ تاریخ کی ناگزیرئیت مارکسزم کے نزدیک سائنس کے قوانین، چاہے وہ فطری سائنس سے متعلق ہوں یا سماجی سائنس سے ، بھی خارجی اعمال کا عکس ہیں جو انسان کی مرضی سے آزاد ہو کر اپنا کام کرتے ہیں۔ جن کو آدمی نہ تو بدل سکتا ہے اور نہ انہیں مٹا سکتا ہے ۔ مثلاً پانی کا یہ اصول کہ اس کو گرم کیا جائے تو ایک خاص مرحلہ پر اس کے سالماتی اجز را منتشر ہو کر اڑنے لگتے ہیں اور اسی انتشار سے وہ عظیم طاقت پیدا ہوتی ہے جس کو ہم بھاپ کہتے ہیں، اس کے برعکس اگر اسے ٹھنڈک پہنچائی جائے تو ایک خاص نقطہ پر پہنچ کر وہ جمنے لگتا ہے اور برف کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ یہ ایک فطری قانون ہے جس کو معلوم کر کے ہم اسے استعمال تو کر سکتے ہیں مگر اس میں کسی قسم کی تبدیلی کرنا یا اسے مٹا دینا ممکن نہیں ہے ۔ یہ عالم فطرت کے اٹل قوانین ہیں جن میں کبھی فرق واقع نہیں ہوتا۔ یہی حال انسان کی سماجی زندگی کا بھی ہے۔ اس کے کچھ فطری قوانین ہیں جن کو انسان نے سوچ کر نہیں بنایا۔ نہ کوئی انسان انھیں بنا سکتا ہے ۔ وہ اپنے آپ قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گے۔ انسان انھیں بدل نہیں سکتا جس طرح وہ سورج اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader