تاریخی مادیت کا تجزیہ
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
چاند کی گردش کے نظام کو نہیں بدل سکتا ۔ البتہ ان قوانین کا پتہ لگا کر انھیں اپنے لئے مفید بنا سکتا ہے۔ مارکس کا دعویٰ ہے کہ جس طرح انسان کی پیدائش ایک ایسے قانونِ طبیعی کے تحت ہوتی ہے جس پر اسے کوئی اختیار نہیں ہے۔ اسی طرح سماج کے بدلنے اور ارتقا کرنے کے قوانین "ناگزیر تاریخی وجوب" کی حیثیت رکھتے ہیں، پہلے جو کچھ ہوا ہی ہو سکتا تھا اور آئندہ جو کچھ ہونے والا ہے وہ ہو کر رہے گا انسان اپنے ارادہ سے اس میں رَدّ وبدل نہیں کر سکتا۔ مارکس نے یہ نظریہ اس لئے گھڑا تھا تا کہ وہ سرمایہ داری نظام کے ناگزیر تاریخی زوال کی پیشگوئی کرے اور مزدور طبقہ کو یہ خوش خبری سنائے کہ تاریخی ارتقا کے اٹل قانون کے مطابق ان کا عروج لازمی ہے۔ اس نے انسانی تاریخ کو ایسے متعین سفر کی شکل میں پیش کیا جس کے ایک لازمی مرحلہ کے طور پر سرمایہ داری نظام آیا ہے اور اسی طرح لازمی طور پر اس کے بعد پرولتاری نظام آئے گا۔ مگر سوال یہ ہوا کہ فطری سائنس کے قوانین تو مستقل ہیں ۔ وہ ہمیشہ ایک حالت پر رہتے ہیں۔ پھر جب تمام نیچر ایک ہے تو جس طرح ہوا اور پانی کے قوانین میں زمانہ کی رفتار سے کوئی تبدیلی نہیں آتی، اسی طرح سماج کے قوانین بھی نہیں بدلنے چاہئیں ۔ ان کو ہمیشہ ایک حالت پر باقی رہنا چاہئے“۔ یہ بات مارکس کی خواہش کے خلاف تھی۔ کیونکہ اس کے معنی یہ تھے کہ جو کچھ اس وقت موجود ہے وہی آئندہ بھی باقی رہے ۔ مگر وہ تو حالات کو بدلنا چاہتا تھا ۔ آج سرمایہ دار طبقہ جس مقام پر ہے وہاں پرولتاریہ کو لانے کا خواہشمند تھا۔ اس طرح " سرمایہ داری کے زوال اور پرولتاریہ کے عروج کی ناگزیرّیت ثابت کرنے کے لئے اس نے ایک دعویٰ تو کر دیا مگر پھر فوراً سوال پیدا ہوا کہ یہ ہو گا کیوں کر۔ جب نیچر کے دوسرے قوانین کبھی نہیں بدلتے تو انسانی سماج میں کس طرح تبدیلی کی جاسکتی ہے ۔ پھر تو جس طرح آدمی ہوا میں سانس لینے کے لئے مجبور ہے اور کسی طرح اس کو بدلا نہیں جاسکتا۔ اسی طرح ملکیتی نظام بھی ہمیشہ باقی رہے گا ۔ اس سوال کے جواب میں مارکس نے فوراً دوسرا دعویٰ کر دیا۔ اس نے کہا "فطری قوانین کے برعکس سماجی قوانین غیر مستقل ہیں ، وہ ایک مخصوص تاریخی عہد میں کام کرتے ہیں جس کے بعد خود انھیں کے اندر سے کچھ نئے قوانین نکلتے ہیں جو ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ یہ نئے قوانین انسانی ارادہ کی تخلیق نہیں ہوتے بلکہ وہ نئے معاشی حالات میں خود بخود جنم لیتے ہیں۔ ایک طرف مارکس کائنات کی وحدت کو نہایت زور شور کے ساتھ بیان کرتا ہے اور دوسری طرف جب اس نظریہ کا اطلاق عملی دنیا میں اس کی خواہش کے خلاف ظاہر ہوتا ہے تو وہ اس سے انکار کر دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader