تاریخی مادیت کا تجزیہ
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح بظاہر مارکس نے اپنی مشکل حل کر لی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ کہہ کر اس نے پہلے سے زیادہ بڑی مشکل میں اپنے آپ کو ڈال دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سماجی ارتقا کا یہ لازمی قانون ہے کہ ہر دور اپنے اضداد پیدا کرتا ہے جو پہلے سماج کو ختم کر دیتا ہے تو اشتراکی سماج کے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہوگا۔ کیا پروڈتاری انقلاب کے بعد سماج کے غیر مستقل قوانین مستقل ہو جائیں گے اور فطرت اور سماج کا اختلاف ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا۔ اس کے معنی تو یہ ہیں کہ خود اشتراکی سماج کے ساتھ بھی وہی لازمی کمزوری لگی ہوئی ہے جو غلام سماج ، جاگیرداری سماج اور سرمایہ داری سماج کے ساتھ تھی۔ جن کی تبدیلی صرف ظلم کی شکلوں کی تبدیلی تھی نہ کہ خود ظلم کی تبدیلی ۔ پھر کس بنا پر یقین کیا جائے کہ اشتراکیت کے بعد ما بعد تاریخ دور" شروع ہوگا اور انسانیت مستقل طور پر دکھ اور مصیبت سے نجات پا جائے گی۔ اشترا کی حضرات اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اشتراکی سماج چونکہ طبقاتی تضاد سے پاک ہو گا اس لئے اضداد کا عمل بھی وہاں نہیں ہوگا۔ مگر یہ کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ خود مارکسی نظریہ تاریخ کے مطابق انسان کا اولین سماج عملاً اشتراکی سماج تھا جس میں آج کی طرح طبقات نہ تھے مگر اس کے بطن سے غلام سماج برآمد ہوا۔ پھر جب گذشته تاریخ میں ایسا ہوا تو آئندہ ایسا کیوں نہیں ہوگا۔ ارتقا کے نظریہ کے مطابق زندگی کا سفر ہمیشہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہونا چاہئے پھر ابتدائی معیاری سماج نے اپنے سے بد تر سماج کی طرف کیسے سفر شروع کر دیا۔ اگر اس وقت یہ ممکن تھا کہ خیر سے شرظاہر ہو تو آئندہ جو سوشلٹ سماج بنے گا وہ کیوں کسی دوسرے بدتر سماج میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader