طبقاتی نظریہ
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنا اجرتی مزدور بنا لیا ہے۔ یہ لوگ صاحبِ ملک سرمایہ داروں سے الگ ایک ممتاز طبقہ بن گئے ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کے پاس سب کچھ ہے اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کے پاس کچھ بھی نہیں۔ یہی وہ طبقہ ہے جو پوری یکسوئی کے ساتھ ملکیتی نظام کو ختم کرنے کی جنگ لڑ سکتا ہے اور اس کو آخری تک لے جا سکتا ہے ۔ کیونکہ اس کو یہ خطرہ نہیں ہے کہ ملکیت کی تنسیخ سے اس کا اپنا بھی کچھ نقصان ہوگا۔ مارکس کے الفاظ میں ”جدید محنت کش طبقہ کے پاس اپنی بیڑیوں کے سوا کھونے کے لئے کچھ نہیں ہے“ ایک کمیونسٹ مفکر لکھتا ہے:- ” مارکس کا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے کہ اس نے مزدور طبقہ کا وہ فرض دریافت کیا جو تاریخ نے اس طبقہ کو سونپا تھا ، مارکس نے بتایا کہ یہی طبقہ سرمایہ داری کی قبر کھودے گا اور سوشلزم کی عمارت اٹھائے گا۔ مارکسزم کا نظریہ ہے کہ محنت کرنے والے اور اپنی محنت سے دوسروں کو منافع دینے والے عوام میں صرف مزدوروں کا طبقہ ایسا ہے جو آخر حد تک انقلابی ہے ۔ وہ نجی ملکیت کے بندھن سے آزاد ہے ۔“ یہی مصنف دوسری جگہ لکھتا ہے : ” طبقاتی تقسیم پر اس لئے زور دیا جاتا ہے کہ مارکسزم کے مطابق مزدور طبقہ آدھے راستے پرستانے کا قائل نہیں اس میں وہ تذبذب اور ارادے کی کمزوری نہیں جو درمیانی طبقوں کی خصوصیت ہے ، اس میں ہر طبقہ سے زیادہ جوش اور جذبہ پایا جاتا ہے ۔ “ مارکس کا یہ نظریہ ، سماجی ارتقا رکے بارے میں اس کے نظریہ کے مطابق ہے۔ وہ کہتا ہے کہ سماج جب اپنی انتہا کو پہونچ جاتا ہے تو اس کے اندر سے خود اس کا ضد پیدا ہو جاتا ہے جو اسے ختم کر دیتا ہے ۔ سرمایہ داری ایک ملکیتی نظام ہے۔ یہ اپنی ترقی کے دوران میں بہت بڑی اکثریت کو ملکیت سے محروم کرکے صرف اجرتی مزدور بنا دیتا ہے۔ یہی بے ملکیت مزدور صاحبِ ملک سرمایہ داری کے بطن سے نکلا ہوا اس کا وہ حریف ہے جو اس سے ٹکرا کر اسے ختم کر دے گا۔ مارکس نے یورپ کی ترقی یافتہ صنعتی ممالک کے پیش نظر یہ بات کہی تھی۔ اس کے فلسفے کے مطابق کمیونزم سب سے پہلے وہاں آنا چاہئے تھا جہاں سرمایہ داری نظام سب سے زیادہ ترقی کر چکا ہو ۔ کیونکہ جہاں صنعتی نظام زیادہ ترقی کر لیتا ہے وہیں اس کا ضد۔ بے ملکیت مزدوروں کا گروہ ۔ پیدا ہوتا ہے جو اسے ختم کر سکتا ہے۔ مگر اس کا یہ نظریہ غلط ثابت ہوا اور کمیونزم سب سے پہلے روس میں پھیلا۔ وہ کس ایک زراعتی ملک تھا۔ وہاں مزدور کی آبادی کا تناسب اس کے برعکس تھا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader