طبقاتی نظریہ
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
جوارکسی نظریہ کے مطابق انقلاب کے قابل کسی ملک میں ہونی چاہئے۔ روس میں مزدوروں کی تعداد ساری آبادی میں ایک جزو کی حیثیت رکھتی تھی۔ اور اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو انفرادی طور پر زمین کے چھوٹے چھوٹے قطعات میں کاشت کرتے تھے ۔ وہاں ابھی وہ طبقاتی تضاد پیدا نہیں ہوا تھا جو اشتراکی انقلاب کا سبب ہوا کرتا ہے ۔ روس ابھی پورے طور پر صنعتی ملک نہیں بنا تھا اور وہاں زیادہ تر صاحب ملک جاگیردار کے مقابلہ میں چھوٹے چھوٹے کھیتوں کی ملکیت رکھنے والے کسان تھے ۔ اس طرح اس کے اور اشتراکی نظام کے درمیان ابھی پورے ”ایک دور“ کا فاصلہ تھا۔ روس ابھی جاگیرداری نظام کے سرے پر تھا جب کہ مارکسی فلسفہ کے مطابق اس کو اشتراکیت تک پہنچنے کے لئے سرمایہ داری نظام کی منزل عبور کرنی بھی ضروری تھی ۔ دوسرے لفظوں میں روس میں ابھی وہ حالات ہی پیدا نہیں ہوئے تھے کہ وہاں دو تضاد طبقے ٹکرائیں اور انقلاب رونما ہو۔ چنانچہ دوسری انٹرنیشنل کے اکثر ممبروں کی رائے تھی کہ کسی ملک میں مزدور طبقہ اس وقت تک اقتدار حاصل نہیں کر سکتا اور نہ اسے کرنا چاہئے جب تک اس ملک میں اس کی اکثریت نہ ہو جائے ۔“ اس کے جواب میں لینن نے کہا: ”مانا کہ تمہارا یہ دعویٰ صحیح ہے لیکن فرض کرو ایک ایسی تاریخی صورت حال (جنگ، زراعتی بحران وغیرہ) پیدا ہوگئی ہے جس میں مزدور طبقہ جو ملک میں اکثریت میں ہے ۔ یہ موقع مل گیا ہے کہ محنت کش عوام کی وسیع اکثریت کو اپنے ساتھ لے کر اقتدار پر قبضہ کرلے تو وہ کیوں نہ ایسا کرے؟“ لہ اس توجیہہ کو اگر صحیح مان لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ مارکسی انقلاب کی حیثیت تاریخ کے ان انقلابات سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے جن میں ایک ظالم حکمران نے کسی ملک کی حکومت کو کمزور پا کر اس پر قبضہ کر لیا۔ حالانکہ تاریخ کے اس نقطہ نظر کو مارکسی حضرات بورژوا تاریخ کہتے ہیں۔ مارکس نے مزدور انقلاب کو ملک گیری اور لوٹ کھسوٹ کے انقلاب سے الگ کرنے کے لئے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ انسانی تاریخ ایک لازمی قانون ارتقاء کے تحت سفر کر رہی ہے۔ غلام سماج سے جاگیرداری سماج ہی پیدا ہو سکتا تھا اور جاگیرداری سماج صرف سرمایہ دارانہ سماج پیدا کر سکتا تھا۔ اسی طرح سرمایہ دارانہ سماج سے اشتراکی سماج ہی پیدا ہو سکتا ہے ، لینن نے اپنے مضمون ”مارکس کی تعلیمات میں لکھا ہے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader