Urdu book · سوشلزم اور اسلام

طبقاتی نظریہ

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

"مارکس نے تمام موجودہ سماج کے معاشی قانونِ حرکت سے ہی یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ سرمایہ دارانہ سماج کا اشتراکی سماج میں بدل جانا ضروری ہے۔ محنت نت نئی تیزی سے ہزاروں صورتوں میں اشتراکی رنگ اختیار کرتی جارہی ہے۔ مزدور طبقہ جس نے خود سرمایہ داری کے ہاتھوں تربیت پائی ہے۔ اس تبدیلی کا ذہنی اور اخلاقی روح رواں ہے اور وہی اس کو عملی جامہ پہنائے گا۔ انقلابات کی عام تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کسی ملک کی حکومت کمزور ہوگئی یا وہاں کے مختلف علاقے آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہوکر لڑنے لگے تو اس موقع سے فائدہ اٹھاکر کسی نے اپنی فوج کے ساتھ اس پر چڑھائی کردی اور سارے ملک پر قبضہ کرلیا۔ اور جہاں سابق ظالموں کی حکمرانی تھی وہاں نئے ظالموں کی حکمرانی قائم ہوگئی۔ لیکن مارکس نے اشتراکِ انقلاب کو اس قسم کی ملک گیری سے ممتاز کرنے کے لئے بالکل ایک نیا تاریخی نظریہ قائم کیا۔ اس نے کہا کہ سماج کے انقلاب کے انقلاب کسی خارجی ارادہ کے تحت واقع نہیں ہوتے، بلکہ ان کی ایک اندرونی منطق ہے جو اسے ارتقار کی طرف لے جارہی ہے۔ اب تک کے انقلابات منصفانہ سماج قائم کرنے میں اس لئے ناکام رہے کہ اب تک کوئی ایسا طبقہ پیدا نہیں ہوا تھا جو صحیح طور پر انقلاب کی رہ نمائی کر سکے، مگر جدید سرمایہ داری نظام نے بے ملک مزدوروں کا طبقہ پیدا کرکے یہ کام انجام دے دیا ہے۔ یہ بے ملک مزدور وہ گروہ ہے جو ظلم کے اصل سبب یعنی ذرائع پیدا دار کی نجی ملکیت سے پاک ہے۔ اس لئے اس کے ہاتھوں جو انقلاب آئے گا وہ خالص انقلاب ہوگا اور وہ اپنے کو آزاد کرنے کے ساتھ دوسروں کو بھی آزاد کردے گا۔ اس طرح اس نے فلسفہ تاریخ کے ذریعہ اس بات کی توجیہہ کی کہ پچھلے انقلابات کے برعکس کیوں مزدور انقلاب خوش حالی اور انصاف کا انقلاب ہوگا۔ لیکن واقعات سے ٹکرانے کے بعد جب یہ نظریہ بے معنی معلوم ہوا تو فوراً اس کی توجیہہ کرلی گئی۔ مگر توجیہہ کرنے والے یہ بھول گئے کہ اس توجیہہ سے وہ خود اپنے خلاف دلیل فراہم کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سرمایہ داری نظام کی کمزوری کیا اس کا نام ہے کہ کسی وقتی سبب سے کسی ملک میں اس کی گرفت کمزور ہوگئی ہو یا کہ مارکس کے فلسفہ اضداد کے مطابق اس کے بطن سے اس کا وہ مخالف عدد ظاہر ہوجائے جو اس کو قطعی نتیجہ کے طور پر ختم کرسکتا ہے۔ اگر پہلی صورت ہے تو مارکس کا مادی تاریخ کا فلسفہ کہاں گیا۔ پھر تو اشتراکی انقلاب کسی ارتقائی عمل کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ وہ بھی اسی نوعیت کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page