Urdu book · سوشلزم اور اسلام

طبقاتی نظریہ

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک چیز ہے جیسے دوسری جنگِ عظیم میں ہٹلر نے موقع پاکر پولینڈ پر قبضہ کر لیا۔ یامسولینی نے حبشہ کی کمزور حیثیت سے فائدہ اٹھا کر اس پر اپنی حکومت قائم کر دی ۔ پھر پرولتاری انقلاب اور ظالمانہ ملک گیری میں کیا فرق باقی رہتا ہے۔ روس میں جب لینن نے انقلاب کی جد و جہد میں بے ملکیت مزدوروں کے ساتھ صاحبِ جائداد کسانوں کو بھی شریک کیا تو وہاں بڑے زور شور کے ساتھ یہ سوال اٹھا کہ اس قسم کی جد و جہد کے ذریعہ جو انقلاب آئے گا کیا وہ اشتراکی انقلاب ہو سکتا ہے ۔ اسی ” عوامی کردار“ کی وجہ سے فرانس کا جمہوری انقلاب سرمایہ داری کے انقلاب میں تبدیل ہو گیا اور جو طاقت بادشاہ سے چھینی گئی تھی وہ محنت کش عوام کی طرف منتقل ہونے کے بجائے سرمایہ داروں کے ہاتھ میں چلی گئی۔ آخر روس میں بھی کیوں ایسا نہیں ہوگا جب کہ یہاں بھی مزدوروں کے خالص بے ملکیت طبقہ کے بجائے ملے جلے عوام کے ذریعہ انقلاب لایا گیا ہے ۔ اس کے جواب میں لینن نے یہ نظریہ پیش کیا کہ کبھی ”بورژوا جمہوری انقلاب بڑھ کر سوشلسٹ انقلاب کی صورت اختیار کر لیتا ہے “ اس نے روسی انقلاب کے دو دور قرار دئیے ایک فروری 1917 ء سے اکتوبر 1917 ء تک (8 مہینے) جب کہ ”تمام کسانوں کو ساتھ لے کر ملوکیت کے خلاف، زمینداروں کے خلاف، جاگیرداری نظام کے خلاف “ جد و جہد کی گئی ۔ یہ جاگیرداری نظام سے سرمایہ دارانہ جمہوری انقلاب تک پہونچنے کی منزل تھی ۔ اس دور میں زار کو ختم کیا گیا اور ملک میں عوام کی نمائندہ آزاد جمہوری حکومت قائم کی گئی ۔ دوسرا دور 1917 ء کے بعد جب کہ ”مفلس کسانوں اور نیم مزدوروں اور تمام مظلوموں کو ساتھ لے کر سرمایہ داروں کے خلاف جد و جہد کی گئی ۔ جس میں دیہات کے امراء ، دولت مند کسان اور نفع خور بھی شامل ہیں “ اس دوسرے دور میں روسی انقلاب سوشلسٹ انقلاب بنا۔ جب کہ اقتدار براہِ راست محنت کش طبقہ یعنی بالشویک پارٹی کے ہاتھ میں آگیا۔ مگر اس منطق تا دلیل سے بھی کام نہ چلا۔ کیونکہ پہلے دور میں روس میں جو انقلاب آیا تھا اس کی حیثیت صرف یہ تھی کہ ملک کا اقتدار اعلیٰ زار کے بجائے عوام کے منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں آگیا۔ جیسا کہ عام طور پر جمہوری ممالک میں ہوا ہے ۔ یہ محض ایک سیاسی نوعیت کی تبدیلی تھی ۔ حالانکہ مارکس اور اینگلز کی واضح تصریحات کے مطابق اشتراکی انقلاب معاشی تبدیلیوں کا نتیجہ ہوا کرتا ہے۔ اشتراکی پیغمبر کی ان تحریروں کو بدل دینا ممکن نہ تھا جن کا صریح تقاضا یہ ہے کہ اشتراکی انقلاب سب سے پہلے انھیں ملکوں میں آئے جہاں جدید سرمایہ داری نظام سب سے زیادہ ترقی کر چکا ہو کیونکہ سرمایاباری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page