Urdu book · سوشلزم اور اسلام

طبقاتی نظریہ

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

کاضد ـــــــ بے بلک مزدوروں کی فوج وہیں پائی جاسکتی ہے۔ اس نظریہ کے مطابق اشتراکی انقلاب کی توقع سب سے پہلے مغربی یورپ ہی کے کسی ملک کی جاسکتی تھی۔ چنانچہ کیونسٹ مینی فوسٹو ۱۸۴۸ء میں شائع ہوا تھا۔ اس میں سب سے پہلے جس ملک میں اشتراکی انقلاب کی امید ظاہر کی گئی تھی وہ جرمنی ہے۔ مارکس نے مئی ۱۸۴۹ء میں جرمن اخبار " جدید رائیں۔ گرنٹ " میں لکھا تھا کہ " سرخ جمہوری پیرس کے اوپر سے جھانک رہی ہے ۔ " مگر اشتراکی انقلاب نہ جرمنی میں آیا نہ فرانس میں نہ برطانیہ میں اور نہ امریکہ میں بلکہ وہ روس میں ہوا۔ یہ ایک مشکل سوال تھا جس کی توجیہہ کے لئے لینن کے " سامراجیت " کے نظریہ سے مدد لی گئی۔ کہا گیا کہ مارکس نے جس سرمایہ داری نظام کو سامنے رکھ کر اس کی تشریح کی تھی وہ اب سامراجی دور میں داخل ہوگیا ہے۔ یہ سرمایہ داری نظام کا قومی اور ملکی حدود سے نکل کر عالمگیر نظام کی شکل اختیار کر لینے کا دور ہے۔ اب صنعتی ممالک صرف اپنی مصنوعات باہر نہیں بھیجتے بلکہ نوآبادیات قائم کرکے سرمایہ باہر منتقل کرتے ہیں۔ اس طرح نوآبادیاتی پالیسی کے ساتھ مل کر یہ مالیاتی پھیلاؤ ایک ایسا عالمگیر نظام بن گیا ہے جس میں گنتی کے چند " ترقی یافتہ " ممالک دنیا کی کثیر آبادی پر حاوی ہوجاتے ہیں ، ان باتوں کا ایک نتیجہ یہ ہوا ہے کہ الگ الگ قومی علاقے اور قومی معیشت ایک ہی عالمگیر معیشت کے سلسلہ کی کڑیاں بن گئی ہیں پہلے لوگ سمجھتے تھے کہ مزدور انقلاب محض کسی ایک ملک کی اندرونی ترقی کا نتیجہ ہے۔ اب یہ نقطۂ نظر کافی نہیں رہا۔ اب سمجھنا چاہئے کہ مزدور انقلاب اصل میں سامراجیت کے عالمگیر اندرونی تضاد کے بڑھنے یا کسی ملک میں عالمگیر سامراجی محاذ کی زنجیر ٹوٹ جانے کا نتیجہ ہے۔ " اس نظریہ کے تحت لینن نے اعلان کیا کہ " یہ ضروری نہیں ہے کہ انقلاب سب سے پہلے اس ملک میں آئے جہاں صنعت زیادہ ترقی کر چکی ہے بلکہ یلغار کا کامور چہ سب سے پہلے وہیں ٹوٹے گا۔ جہاں سامراجیت کی زنجیر سب سے کمزور ہے۔ " چنانچہ اس اصول کے مطابق سٹالن لکھتا ہے کہ " ۱۹۱۷ء میں عالمگیر سامراجی محاذ کی زنجیر اور ملکوں کی نسبت روٹس میں زیادہ کمزور ثابت ہوئی ، وہیں زنجیر ٹوٹ گئی۔ اور مزدور انقلاب کے لئے راستہ صاف ہوگیا۔" ان تفصیلات کا ذکر کرنے کے بعد سٹالن لکھتا ہے : " یہی وجہ ہے کہ مزدور انقلاب کے مسئلہ کا فیصلہ کرنے میں کسی ملک میں مزدوروں کی آبادی کے اعداد و شمار کی اب وہ اہمیت نہیں رہی جس پر دوسری انٹرنیشنل کے کتاب پرست اس قدر زور دیا کرتے ہیں ، وہ سامراجیت کو نہیں سمجھ سکے اور انقلاب سے طاعون کی طرح ڈرتے ہیں ۔"

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page