Urdu book · سوشلزم اور اسلام

طبقاتی نظریہ

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، لینن کی یہ توجیہہ صرف اس قیمت پر قابلِ قبول ہوسکتی ہے کہ مارکسزم کو فلسفہ کے مقام سے اتار کر سیاست کے مقام پر رکھ دیا جائے۔ مارکسی حضرات اس کی کیا توجیہہ کریں گے کہ سامراجی نظام کا نو آبادباتی پھیلاؤ دوبارہ قومی سرمایہ داری کی حدود میں سمٹ آیا ہے۔ لینن نے کہا تھا کہ "سامراجیت سوشلسٹ انقلاب سے پہلے کی شام ہے۔" اس نے اس موضوع پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے "سامراجیت: سرمایہ داری کی آخری منزل"۔ مگر دوسری جنگِ عظیم کے بعد نو آبادیاتی نظام کا خاتمہ ہو چکا ہے اور سامراجیت کی تاریخی سوشلسٹ انقلاب کی شکل میں طلوع ہونے کے بجائے "قومی سرمایہ داری" کی صبح میں تبدیل ہو رہی ہے۔ حتی کہ خود روس بھی اب عالمگیر مزدور تحریک کا مرکز نہیں رہا بلکہ اشتراکیت کا " مادرِ وطن " بن گیا ہے۔ ضرورت ہے کہ مارکسی حضرات اب کوئی اور نظریہ گھڑیں۔ متضاد باتیں جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، مارکسزم ڈارون اور اس کے ہم نواؤں کے مرتب کردہ نظریہ ارتقاء کو تسلیم کرتی ہے اور واقعاتِ عالم کی توجیہہ کے لئے اسی نظریہ کو استعمال کرتی ہے۔ کارل مارکس نے ڈارون کی مشہور کتاب "آغازِ انواع" کا مطالعہ کرنے کے بعد فریڈرش انگلس کو لکھا تھا کہ ڈارون کی تحقیق سے ہمارے جدلیاتی نظریہ کی تائید ہوتی ہے۔ مگر قدیم ڈاروینی نظریہ کا ایک پہلو چونکہ اس کے طبقاتی جدوجہد کے نظریہ سے ٹکراتا تھا۔ اس لئے مارکس نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ ڈارون اور اس کے ہم خیال سائنس دانوں کا دعویٰ تھا کہ قانونِ ارتقاء کے مطابق فطرت میں جو تبدیلیاں ہوتی ہیں وہ ہمیشہ تدریجی عمل میں آتی ہیں اور فطرت کا تسلسل کہیں بھی ٹوٹتا نہیں ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ فطرت میں کوئی تغیر اچانک واقع ہو جائے ۔ مگر ایسا ماننے کی صورت میں مارکس کے انقلابی نظریہ کی تردید ہوتی تھی۔ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ فطرت کے سارے تغیرات اپنے آپ ہو رہے ہیں ۔ ڈارون کو تدریجی ارتقاء کا اصول گھڑنا پڑتا تھا۔ یعنی کسی خار جی کار فرمائی کے بغیر کائنات کے تمام مظاہر تدریجی ارتقاء سے مسلسل بڑھ رہے ہیں مگر مارکس "مزدوروں کی ڈکٹیٹر شپ " قائم کرنے کے لئے اس کا انتظار نہیں کرنا چاہتا تھا کہ سرمایہ داری کسی تدریجی عمل کے ذریعہ خود سے فنا ہو جائے اور مزدور راج بھی ایک تدریجی عمل کے ذریعہ نامعلوم مدت میں خود بخود قائم ہو جائے۔ وہ تو انقلاب کا دائمی تھا ۔ ایک سوسائٹی کو توڑ کر فوراً دوسری سوسائٹی قائم کرنا چاہتا تھا۔ اس لئے اس نے قدیم ڈاروینی نظریہ کے اس پہلو کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ فطرت میں اچانک تغیر بھی ہوتا ہے یعنی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ فطرت تدریج و تسلسل سے کام لینے کے بجائے ایک جست لگا کر آگے بڑھ جاتی ہے اور کسی ایسی شے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page