طبقاتی نظریہ
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
مادی حیات ہستی کو وجود میں لاتی ہے جو شکل اور صفت دونوں اعتبار سے اپنے پیشرووں سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔۵۷ یقیناً عالم فطرت میں ایسے تغیرات ہوتے ہیں جیسا کہ جدید تحقیقات سے بھی ثابت ہوا ہے۔ مگر اس کو مان لینے کے بعد پھر مارکس کے دوسرے نظریات کی عمارت دھڑام سے گر جاتی ہے۔ ہیگل نے بھی کہا تھا کہ اس مفہوم میں نظریہ ارتقاء بالکل مہمل ہے۔ مگر ہیگل عالم مادی کے پیچھے ایک متصرف طاقت مانتا ہے۔ ایک شعور جو جان بوجھ کر عالم مادی کو حرکت دے رہا ہے۔ ایسی صورت میں تو یقیناً یہ کہا جا سکتا ہے کہ عالم فطرت میں اچانک تغیرات واقع ہوتے ہیں ۔ اور ان تغیرات کو واقعہ میں لانے والا وہ شعور ہوتا ہے جو کائنات کے پیچھے بالارادہ کام کر رہا ہے۔ مگر مارکس تو ایسی طاقت کو ماننے سے انکار کرتا ہے پھر وہ اس کی کیا توجیہ کرے گا۔ اچانک تغیرات قطعی طور پر کسی متصرف شعور کا پتہ دیتے ہیں۔ سماج میں جو اچانک تغیر مارکس لانا چاہتا ہے وہ خود بخود ہونے والا کوئی عمل نہیں ہے بلکہ پرولتاری طبقہ اس کو بالقصد سرمایہ داروں سے کش مکش کر کے وجود میں لاتا ہے۔ پھر کائنات کے تغیرات لانے والا کون ہے۔ مگر مارکسی حضرات کی مشکل یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی۔ اشتراکی فلسفہ کی مثال ایک الجھے ہوئے دھاگے کی ہے جس میں بے شمار گرہیں پڑی ہوں اور ہر بار گرہ کھولنے کی کوشش اس میں کچھ اور گرہ ہوں کا اضافہ کر دیتی ہو۔ جب روس میں پہلی بار عملاً یہ نظریہ رائج ہوا تو ایک اور مشکل پیش آگئی۔ "فطرت کبھی چھلانگ لگا کر ایک حالت سے دوسری حالت تک پہنچ جاتی ہے" اس اصول سے کام لے کر محنت کش طبقہ کو سرمایہ دار طبقہ سے ٹکرایا گیا تھا تاکہ رائج الوقت نظام اپنا تسلسل توڑ کر اشتراکی نظام میں تبدیل ہو جائے۔ اس نظریہ کی رو سے اکتوبر انقلاب کے بعد روس میں حقیقی معنوں میں سوشلزم قائم ہو جانا چاہئے تھا اور لوٹ کھسوٹ اور طبقاتی جنگ کا وجود مٹ جانا چاہئے تھا۔ مادی حالات کی تبدیلی سے سماجی حالات کے بدل جانے پر اشتراکی حضرات علم کیمیا سے استدلال کرتے ہیں۔ مثلاً آکسیجن کے سالامات (Molecules) میں دو جوہر (Atoms) ہوتے ہیں اگر کسی عمل کے ذریعہ ان کی تعداد تین کر دی جائے تو وہ آکسیجن باقی نہ رہے گا۔ بلکہ اوزون (Ozone) بن جائے گا جو بو اور خاصیت دونوں میں آکسیجن سے مختلف ہے ۔ اس استدلال کے معنی یہ ہیں کہ زار کی حکومت کا تختہ الٹ جفتے کے بعد جب مزدور طبقہ نے اقتدار سنبھال لیا تو فوراً اشتراکی طرز کا بے طبقاتی سماج قائم ہو جانا چاہئے تھا۔ کیونکہ آکسیجن میں ے کارل مارکس، سلکینڈ ورکس، جلد اول، صفحہ ۷۱۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader