Urdu book · سوشلزم اور اسلام

طبقاتی نظریہ

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

جب مطلوبہ قسم کی مادی تبدیلیاں کر دی جائیں تو وہ پورے طور پر ازدون ہو جائے گا نہ پھر بھی آکسیجن باقی رہے گا۔ مگر روس میں ایسا نہ ہو سکا۔ انقلاب کے بعد شروع شروع میں انقلابی حضرات اپنے جوش میں یہ سمجھ بیٹھے کہ بس اب ان کے خوابوں کی دنیا آگئی ہے۔ اب یہاں نہ کوئی لوٹنے والا ہے نہ کوئی لوٹنے والا، نہ کوئی ظالم ہے نہ کوئی مظلوم نہ کوئی دبا ہوا طبقہ ہے نہ کوئی دبانے والا طبقہ۔ مگر بہت جلد معلوم ہوگیا کہ مادی حالات کے بدل جانے کے بعد بھی "بے طبقاتی سماج " کا خواب پورا نہیں ہوا ہے بلکہ حکومت کے ہاتھ میں سیاسی طاقت کے ساتھ سارے ملک کی معاشیات آ جانے کی وجہ سے مظلوم کی مظلومیت، اور ظالم کا ظلم دونوں بہت بڑھ گئے ہیں۔ فوج اور پولیس کی سرگرمیاں زار کے زمانہ سے بھی زیادہ شدید ہوگئی ہیں۔ رہی سہی آزادیوں کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے۔ زندگی ہر طرف افلاس، مجبوری اور ہولناک مظالم کا شکار ہورہی ہے۔ یہ کھلا ہوا ثبوت اس بات کا تھا کہ علم کیمیا کے قوانین انسانی زندگی پر راست نہیں آتے۔ ایک عنصرایٹی تبدیلیوں کے ذریعہ دوسرے عنصر میں تبدیل ہو سکتا ہے لیکن انسان کا ذہن اگر نہ بدلے تو مادی حالات اس کو بدل نہیں سکتے۔ ایک راستہ بند پا کر وہ اپنے ارادہ کی تکمیل کے لئے دوسرا راستہ اختیار کرلے گا۔ چنانچہ روس میں جب سوشلسٹ ریاست قائم ہونے کے بعد بھی جابرانہ کارروائیاں باقی رہیں بلکہ زار کے زمانہ سے بھی زیادہ سخت ہوگئیں تو اس کو دیکھ کر خود بڑے بڑے کمیونسٹ چیخ اٹھے ۔ مزدور انقلاب "جست" لگانے کی کوشش میں شاید کھائی کے اندر جاگرا تھا۔ مگر اشتراکی حضرات کب اپنی ہار ماننے والے تھے ۔ انھوں نے فوراً ایک نیا نظریہ گھڑ لیا ۔ لینن نے اعلان کیا۔ "جب دوسروں کی محنت سے منافع حاصل کرنے والوں کا تختہ الٹ دیا جائے تو طبقاتی کشمکش ختم نہیں ہوتی بلکہ تیز تر ہو جاتی ہے۔" گویا سرمایہ داروں کو بے دخل کرنے کے وقت تک تو "چھلانگ" کا اصول تھا اور اس کے بعد پھر حسب سابق "تدریج " کا۔ اس طرح لینن نے ایک طرف تو اس مشکل کو حل کیا کہ انقلاب کے بعد بھی کیوں حالات نہیں بدلے۔ دوسرے اس نے اس بات کی توجیہہ کی کہ مزدور انقلاب کے بعد بھی کیوں کمیونسٹ ڈکٹیٹر شپ کو گولیوں اور جیل خانوں کے استعمال کی ضرورت پیش آرہی ہے۔ اس حالت پر روس میں اب تقریباً ۷۰ سال گزر چکے ہیں۔ کتنے لوگ پیدا ہوئے اور مر گئے کتنی آنکھیں کھلیں اور بند ہوگئیں۔ مگر "طبقاتی کش کش" ہے کہ تیز سے تیز تر ہوتی جارہی ہے۔ وہ کسی طرح ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ جو کش کش زار کے خلاف شروع ہوئی تھی وہ نہ کر نسکی پر رکی نہ ٹراٹسکی پر اس کا خاتمہ نہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page