Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سماجی ارتقا کا نظریہ

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

سماجی ارتقاء کا نظریہ اوپر جو گفت گو کی گئی ہے اس سے مارکسی فلسفہ کی دو بنیادوں کی حقیقت واضح ہو گئی ہے۔ اس بحث سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ انسانی تاریخ کے متعلق یہ مفروضہ غلط ہے کہ اس کا کوئی لازمی قانون ہے اور اسی طرح یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ سماجی حالات کو محض معاشی قوانین کی تبدیلی سے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اب ہم مارکس کے سماجی ارتقاء کے نظریہ پر گفتگو کریں گے۔ انسانی زندگی کا یہ ایک اہم سوال ہے کہ سماج کو بہتر طور پر منظم کرنے کے اصول کہاں سے لئے جائیں۔ اس کی خرابیوں کو کس طرح خوبیوں سے بدلا جائے ۔ اس کے جواب میں مارکس نے فلسفہ ارتقاء کا سہارا لیا۔ اس نے کہا کہ جس طرح طبعی دنیا میں تمام چیزیں خود بخود ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف ترقی کررہی ہیں۔ اسی طرح انسانی سماج بھی ایک تاریخی عمل کے تحت ارتقاء کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسی بنا پر مارکسزم کو سماجی حرکت کی سائنس (Social dynamics) کہا جاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ علم جو سماج کے سفر ارتقاء کی تشریح کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مارکس کے اس نظریہ کے بعد انسانی تاریخ راجہ رانی کی کہانی نہیں رہی بلکہ اس نے باقاعدہ ایک سائنس کی شکل اختیار کرلی ہے۔ مارکس کے "سائنٹفک نقطہ نظر" کے مطابق طبعی دنیا کی طرح انسانی سماج بھی ارتقاء کے راستہ پر بڑھ رہا ہے اور اس میں مسلسل ترقی ہورہی ہے۔ سوشلسٹ تحریکیں اور سرمایہ دارانہ ممالک میں سوشلسٹ انقلاب اس ارتقائی سفر کے نشانات ہیں جو سماج کو بدتر حالت سے بہتر حالت کی طرف لے جا رہے ہیں۔ یہ گویا اس نظریہ کی تردید تھی کہ سماج کی اصلاح اور اس کے صحیح قوانین کی دریافت کے لئے "وحی الہیٰ" کی ضرورت ہے۔ اس نے ثابت کیا کہ کسی خارجہ کی کارفرمائی کے بغیر ہمارا سماج خود اپنی اندرونی منطق سے ارتقا کر رہا ہے۔ اس کا ہر قدم لازمی طور پر آگے کی طرف ہوتا ہے اور وہ برابر صحیح سمت کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہے ۔ مگر پچھلی ایک صدی کی تاریخ اس نظریہ کی تردید کرتی ہے۔ سوشلزم کی مثال لیجے جو مارکسی فلسفہ کے مطابق تاریخ کا ایک نمایاں ارتقائی قدم ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page