Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سماجی ارتقا کا نظریہ

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ سوشلزم مارکس کی ایجاد نہیں ہے۔ اس سے بہت پہلے سوشلسٹ تصورات یورپ میں پیدا ہو چکے تھے۔ مگر مارکسی حضرات کے نزدیک یہ ناقص سوشلزم تھا جس کو مارکس نے مکمل کیا ہے۔ اس زمانہ میں سوشلزم کے معنی یہ تھے کہ سرمایہ دار طبقہ سے اپیل کر کے اس کو مزدوروں کے ساتھ بہتر معاملہ کرنے پر آمادہ کیا جائے ۔ پر امن جد و جہد کے ذریعہ معاشی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس زمانہ کے سوشلسٹ مفکرین کا مقصد صرف مزدور طبقہ کو آزاد کرنا نہیں تھا بلکہ ساری نوع انسانی کی آزادی ان کے پیش نظر تھی ۔ وہ مزدور اور کارخانہ دار کو باہم ٹکرانے کے بجائے ان کی باہمی کش مکش کو ختم کرنے کے خواہشمند تھے ۔ وہ ذرائع پیداوار پر مکمل ریاستی کنٹرول قائم کرنے کے حق میں نہیں تھے بلکہ صرف اس کے بعض حصوں کو قومی ملکیت میں لینا چاہتے تھے ۔ وہ ”مزدور طبقہ کی ڈکٹیٹر شپ “ کے بجائے سارے عوام کی جمہوری حکومت میں یقین رکھتے تھے ۔ وہ عالمی انقلاب کے بجائے قومی سوشلزم کے علمبردار تھے ۔ وہ مذہب و اخلاق کے مخالف نہیں تھے بلکہ اس کو انسانیت کا قیمتی سرمایہ سمجھتے تھے ۔ مگر ان نظریات کو مارکس نے باطل ٹہرایا۔ سوشلزم کے ان تصورات کو اس نے بورژوا اور خیالی سوشلزم کہا۔ اس نے کہا کہ یہ سوشلزم کے نام پر رجعت پسندی کو اختیار کرنا ہے۔ اس نے بتایا کہ سرمایہ دار اور مزدور میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا ۔ ان کا ایک دوسرے سے ٹکرانا ضروری ہے تاکہ سرمایہ دار طبقہ فنا ہو جائے اور مزدور طبقہ کو سارے اختیارات حاصل ہو جائیں ۔ وہ پر امن اور آئینی ذریعہ سے کام کرنے کو موقع پرستی کہتا ہے ۔ اس کے نزدیک صحیح طریق کار صرف یہ ہے کہ قوت سے کام لے کر سرمایہ داری نظام کو توڑ پھوڑ ڈالا جائے ۔ اس نے عوامی حکومت کا مذاق اڑایا اور اس کو بدلے ہوئے نام کے ساتھ سرمایہ داروں کی حکومت بتایا۔ اس کے نزدیک انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ مزدور طبقہ کی حکومت قائم ہو نہ کہ ”عوام“ کی جس کے در حقیقت کوئی معنی نہیں ، وہ مزدور اور کارخانہ دار کی کش کش کو کم کرنا نہیں بلکہ اس کو آخری حد تک تیز کر دینا چاہتا ہے تاکہ جس کو مٹنا ہے وہ مٹ جائے اور جس کے لئے زندہ رہنا مقدر ہے اسے زندگی حاصل ہو۔ اس نے کہا کہ محض بعض چیزوں پر ریاستی کنٹرول قائم کر دینے سے کام نہیں چلتا پیدائش دولت کے تمام ذرائع پر مکمل ریاستی کنٹرول ہونا چاہئے ۔ لینن کے الفاظ میں ایک کسان کو اگر چند بیگھے زمین کے ساتھ باقی رکھا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ابھی زمین پر ”امکانی سرمایہ دار“ موجود ہے۔ اس نے قومیت کو استحصال کرنے والے طبقہ کا فریب بتایا اور ایک عالمی انقلاب کے لئے تمام دنیا کے سرمایہ دار طبقہ کے خلاف تمام دنیا کے محنت کش لوگوں کو یکجا کرنے کا نعرہ بلند کیا۔ اس نے مذہب کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page