سماجی ارتقا کا نظریہ
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
افیون قرار دیا جس میں عوام کو مبتلا کر کے سرمایہ دار طبقہ اسے لوٹتا ہے۔ اگر مارکس کے نظریہ کو ارتقا یافتہ نظریہ اور اس کے پیش رو فلسفیوں کے خیالات کو رجعت پسندانہ نظریہ قرار دیا جائے جیسا کہ مارکس کا دعویٰ تھا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ انسانی تاریخ آگے جانے کے بجائے پیچھے کی طرف لوٹ رہی ہے۔ کیونکہ اب ساری دنیا میں عملاً یہی نظریات قبول کئے جا رہے ہیں جن کو مارکس نے ایک صدی پہلے رد کر دیا تھا۔ روس میں جس حد تک کمیونزم کے نظریات کو اختیار کرنے کی کوشش کی گئی وہ اگرچہ خود مکمل نہیں تھا مگر اس کے بعد جن ملکوں میں یہ نظریہ پھیلا وہاں وہ اور بھی سمٹتا گیا یہاں تک کہ بالکل پیچھے چلا گیا۔ مارکس اپنے سابق سوشلسٹ مفکرین کے برعکس سرمایہ داری نظام کے ساتھ آخری اور فیصلہ کن تصادم کو ناگزیر سمجھتا تھا۔ اس کے ارتقائی سوشلزم کے مطابق مزدور اور سرمایہ دار میں کش کش کو تیز تر ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر اب یہ نظریہ بدل گیا ہے ۔ اب پھر وہی پرانے زمانہ کا سوشلزم آگیا ہے۔ اب نہایت زور شور کے ساتھ اس بات کی تبلیغ کی جارہی ہے کہ سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں یہ بات نہایت دلچسپ ہے کہ سٹالن نے اپنے سیاسی حریفوں کو شکست دینے کے لئے ان کے خلاف غیر ملکی سامراجیوں سے ساز باز کا الزام لگایا تھا اس کے بعد خروشچیف کو اپنے مخالفوں پر یہ الزام لگانا پڑا کہ وہ سرمایہ دار ملکوں کے ساتھ ”پرامن بقائے باہم“ کے مخالف تھے بیشتر کے ذریعہ انقلاب لانے کے نظریہ کو چھوڑ کر وہ دوبارہ پرامن انقلاب کا اصول اختیار کر لیا گیا۔ ”سرمایہ داری کو قانونی ذرائع سے ہلاک کیا جاسکتا ہے “ دوسری جنگ عظیم تک اس تصور کو نہایت رجعت پسندانہ خیال کیا جاتا تھا اور اس کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ یہی نظریہ رکھنے کے جرم میں بخارن کو غدار قرار دیا گیا اور اسی کے جرم میں ہزاروں منشویوکوں کو بالشویک پارٹی سے خارج کر دیا گیا۔ مگر اب سوشلزم دوبارہ لوٹ کر اسی کی طرف آگیا ہے۔ تمام دنیا کی کمیونسٹ پارٹیوں نے تشدد دانہ طریق کار کے نظریہ سے توبہ کر کے آئینی طریق کار کے رجعت پسندانہ نظریہ کو اختیار کر لیا ہے۔ ”طبقاتی ریاست “ کا نظریہ مدت ہوئی ختم ہو چکا ہے اور زمانہ ماضی کا عوامی حکومت کا نظریہ ساری کمیونسٹ دنیا میں تسلیم کیا جانے لگا ہے کمیونسٹ لیگ نے دسمبر ۱۸۴۸ء میں کارل مارکس کے اصرار پر اپنا پرانا موٹو “______ ” تمام انسان بھائی ہیں “ بدل کر نیا موٹو ” دنیا کے مزدور متحد ہو جاؤ “ اختیار کیا تھا ۔ مگر اب پھر تاریخ کا رخ بدل گیا ہے ۔ جو الفاظ پہلے مٹا دیئے گئے تھے وہی اب دوبارہ صفحہ کی زینت بن رہے ہیں۔ روس میں اشتراکی نظام ” مزدور طبقہ کی حکومت “ کی شکل میں ظاہر ہوا تھا۔ اور اب چین نے اپنے لئے عوامی چین (Peoples China) کا روپ اختیار کرنا پسند کیا ہے۔ ذرائع پیداوار پر پرتیل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader