سماجی ارتقا کا نظریہ
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
ریاستی ملکیت کا نظریہ اب صرف کتابوں میں ہے ورنہ دنیا میں کہیں بھی اب اس کو تسلیم نہیں کیا جانا۔ حتیٰ کہ روس میں بھی اس کو اختیار نہیں کیا گیا جہاں انقلاب پر تقریبا پون صدی کی مدت گزر چکی ہے۔ اشتراکی منشور جو 1948ء میں شائع کیا گیا تھا، اس میں قدیم سماجی نظام کو ختم کرنے کے لئے " تمام ذرائع پیدائش کو ریاست کی ملکیت " بنانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ زمین کی ملکیت کا مکمل خاتمہ اور وراثت کے تمام حقوق کی تنسیخ کا اعلان کیا گیا ہے، مگر دنیا کے کسی اشتراکی ملک میں ابھی تک اس کو اختیار نہیں کیا جاسکا ۔ اور نہ بظاہر کسی ملک کا ارادہ ہے کہ وہ ایسا کرے بلکہ اشتراکی ممالک دن بدن اپنے موجودہ مقام سے بھی پیچھے ہٹتے جارہے ہیں جیسا کہ یوگوسلاویہ میں عملاً ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی کمیونزم کو دوسری انٹرنیشنل نے خود اپنے ہاتھوں سے ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا ہے۔ اس کو دوبارہ کنٹرن (Communist International) کے ذریعہ زندہ رکھنے کی کوشش کی گئی تھی مگر اس میں بھی کامیابی نہیں ہوئی۔ مئی ۱۹۴۳ء میں کمیونسٹ انٹرنیشنل کی ایگزیکٹیو کمیٹی کی مجلس صدارت نے یہ سفارش کی کہ بین الاقوامی مزدور طبقہ کی تحریک کے ہدایت مرکز کی حیثیت سے کانفرنس کو برخاست کر دیا جائے ۔ انٹرنیشنل کی تمام قومی شاخوں نے اس تجویز کی توثیق کردی اور ۲۰ مئی ۱۹۴۳ء کو دوسری جنگ عظیم کے دوران اسے ختم کر دیا گیا۔ پھر اسی صدی کے نصف میں کامنفارم کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا جس کی حیثیت عالمی مزدور تحریک کے ہدایت مرکزی کی نہیں تھی بلکہ محض دفتر اطلاعات کی تھی۔ مگر شالن کی وفات کے بعد اس کا بھی خاتمہ کیا جا چکا ہے ۔ اور ہر ملک میں سوشلزم نے قومی سوشلزم کی شکل اختیار کر لی ہے۔ مذہب کے متعلق مارکس کا نظریہ دوسری جنگ عظیم میں ناکام ہو چکا ہے۔ پہلے کمیونزم کو باقاعدہ طور پر مذہب کے مخالف کی حیثیت سے پیش کیا جانا تھا، ۱۸۶۹ء میں سوشلست لیبر پارٹی نے اپنے گوٹھا پروگرام میں مذہب کو " ایک ذاتی معاملہ " قرار دیا تھا۔ مارکس نے اس پر پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے : " مزدور جماعت کو تو اس سے کچھ آگے قدم بڑھا کر انسانی ذہن و ضمیر کو مذہب کے پنجہ اقتدار سے آزاد کرنے کی سعی کرنی چاہئے مگر یہ لوگ (سوشلٹ) سرمایہ دار مہاجنوں سے آگے کوئی قدم اٹھانا پسند نہیں کرتے "۔ مگر اب خود کمیونسٹ پارٹیوں نے وہی قدیم زمانہ کا نظریہ اختیار کر لیا ہے۔ وہ مسلسل اعلان کر رہے ہیں کہ وہ مذہب کے مخالف نہیں ہیں۔ وہ ہر شخص کو اس کی آزادی دیتے ہیں کہ اپنی مرضی کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader