سماجی ارتقا کا نظریہ
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
مطابق جو عقیدہ چاہے رکھے اور جیسے چاہے عبادت کرے۔ کمیونسٹوں کا دعویٰ تھا کہ "کمیونسٹ مینی فیسٹو کی اشاعت کے بعد یوٹوپین سوشلزم کا دور ختم ہو گیا اور مارکس اور اینجلس کے سائنٹفک سوشلزم کا دور شروع ہوا ہے ۔ مگر واقعات نے اس دعوے کو غلط ثابت کر دیا۔ اب ساری دنیا میں مارکس کے ترقی یافتہ اشتراکی نظریات کے بجائے قدیم مفکرین کے رجعت پسندانہ سوشلزم کو اختیار کیا جا رہا ہے۔ اس صورت حال نے مارکس کے سماجی سائنس کے نظریہ کی تردید کر دی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سماج کا کوئی ایسا لگابندھا نظام نہیں ہے جس کے تحت وہ مسلسل ارتقار رہا ہو اور ہمیشہ آگے کی طرف جاتا ہو۔ بلکہ خارجی حالات کے تحت وہ مختلف شکلیں اختیار کرتا رہتا ہے۔ پھر اس سے مارکس کے اس دعوے کی بھی تردید ہو جاتی ہے کہ سماج کے بارہ میں رجعت پسندانہ نظریات کیا ہیں اور ترقی پسندانہ نظریات کیا۔ مارکسی ناگزیر یت (Determinism) کے مطابق اس کے فیصلہ کی بنیاد خود سماج کی ارتقائی حالت تھی۔ یعنی سماج مستقبل میں جو شکل اختیار کرے وہ لازمی طور پر ترقی یافتہ شکل ہے اور ماضی کی جس شکل کو چھوڑ دے وہ لازمی طور پر ناقص صورت ہے۔ اس اصول کے مطابق مارکس نے سماج کے متعلق ماضی کے تمام نظریات کو رد کر دیا تھا۔ اس کے نزدیک جو چیز کل درست تھی وہ آج درست نہیں ہو سکتی۔ مگر واقعات نے مارکسی نظریہ کی تردید کر دی ہے۔ مارکس نے مستقبل کے سماج کے لئے جس ہئیت کی پیشینگوی کی تھی اس کو سماج نے اختیار نہیں کیا اور ماضی کی طرف رجعت کر کے ان نظریات کو اختیار کر لیا جن کو ایک سوسال پہلے مارکس غلط قرار دے چکا تھا۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ نظریات کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کرنے کی یہ بنیاد صحیح نہیں ہے کہ سماج اپنے سفر کے دوران میں کس کو لیتا ہے اور کسے رد کر دیتا ہے۔ اس کے فیصلہ کے لئے کوئی دوسری بنیاد ڈھونڈنی پڑے گی۔ یہ سوشلزم کی مثال تھی۔ اس کے علاوہ دوسری مثالوں سے بھی مارکسی نظریہ کی تائید نہیں ہوتی۔ مثلاً فرانسیسی جمہوریہ کو لیجیے۔ بظاہر جمہوری نظام ایک ارتقائی قدم تھا جو شخصی حکومتوں کے بعد تاریخ نے اٹھایا تھا۔ مگر جون ۱۹۵۸ء میں فرانس کی قومی اسمبلی نے جو فیصلہ کیا تھا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسو سال کے نشیب و فراز کے بعد فرانس کی جمہوریت دوبارہ شخصی نظام کی طرف واپس ہو گئی۔ اس فیصلہ کے مطابق جنرل ڈی گال کو یہ اختیار دے دیا گیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کی مدد کے بغیر تنہا فرانس کے اوپر چھ مہینے تک حکومت کریں۔ مخالف پارٹیوں کے شور و غل کے باوجود یہ قانون سترہ گھنٹہ کے اندر منظور ہو گیا۔ اسمبلی میں ۱۹۱ کے مقابلہ میں ۲۲۴ ووٹوں سے اور سینٹ میں ۲۸ کے مقابلہ میں ۲۶۹ ووٹوں سے ایک فوجی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader