Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سماجی ارتقا کا نظریہ

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

کے حق میں ڈکٹیٹر شپ کا یہ فیصلہ کیا گیا۔ مارکس کے سماجی ارتقار کے نظریہ کے مطابق فرانس جو شخصی نظام سے جمہوریت تک آگیا تھا۔ اب چاہئے تھا کہ وہ جمہوری نظام سے پروڈلتاری نظام کی طرف قدم بڑھاتا۔ مگر ترقی کے بجائے اس نے تنزل شروع کر دیا۔ مارکس نے ایک صدی پہلے کہا تھا کہ " سرخ جمہوریت پیرس کے اوپر سے چھا نک رہی ہے۔" مگر فرانس کی جمہوری " سرخ جمہوریت " بننے کے بجائے " تاریک ڈکٹیٹر شپ " میں تبدیل ہونے لگی۔ یہ واقعات صاف طور پر ظاہر کر رہے ہیں کہ تاریخ کے سفر کا کوئی متعین ارتقائی قانون نہیں ہے بلکہ یہاں کوئی باشعور محرک ہے جو اس کو کبھی ایک طرف اور کبھی دوسری طرف لے جاتا ہے توجیہہ سماجی ارتقار کے بارہ میں مارکس کی پیشین گوئیوں پر اب ایک صدی پوری ہو چکی ہے۔ مگر جیسا کہ گزشتہ صفحات میں تفصیل سے واضح کیا گیا ہے، مارکس کے بعد حالات نے اس دوران میں عملاً جو رخ اختیار کیا اس سے مارکسی نظریہ کی تائید نہیں ہوتی بلکہ صریح طور پر اس کی تردید ہوتی ہے۔ مگر مارکس کے متبعین اس واضح حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وہ مارکسی نظریہ کی توجیہہ کرتے ہیں۔ ۱۹۵۵ء کی ابتدا میں کلکتہ ریڈیو نے ایک سمپوزیم منعقد کیا تھا جس کا عنوان تھا: " کیا مارکس بم تقویم پارینہ ہو چکی ہے " اس موضوع پر مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ گوہاٹی یونی ورسٹی میں اقتصادیات کے پروفیسر ڈاکٹر تھامس نے تقریر کرتے ہوئے کہا: "........ ممکن ہے کہ طبقاتی کش کش اور سرمایہ داری کی تباہی کی پیشین گوئی جو مارکس کی نظریہ کے تحت کی جاتی ہے، پرانی بات نظر آئے، لیکن کیا اس حقیقت سے بھی انکار ممکن ہے کہ آج کی دنیا میں سرمایہ کی بے حساب ذخیرہ اندوزی کی جارہی ہے۔ جس کے نتیجہ میں امیر لوگ زیادہ امیر اور غریب لوگ زیادہ غریب ہوتے جارہے ہیں۔ یہ چیز ایک مستقل طبقاتی کش کش اور لازمی انقلاب کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ صرف اسی وجہ سے بہت سے ملکوں میں انقلاب آئے ہیں۔ اور ایسی کوئی بات نہیں ہے جس کی بنا پر ہم یقینی طور پر کہہ سکیں کہ انقلاب کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اور آئندہ کوئی انقلاب نہیں آئے گا۔ اگر ملکوں کی بیشتر تعداد ایسی ہے جہاں انقلاب ابھی تک نہیں آیا تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان میں سرسے سے انقلاب کا کوئی امکان ہی نہیں بلکہ یوں کہئے کہ وہاں قومی پیداوار کی زیادہ فراخ دلانہ تقسیم کے ذریعہ انقلاب کو روک دیا گیا ہے "

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page