سماجی ارتقا کا نظریہ
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
اس توجیہ کا مطلب یہ ہے کہ انقلاب کے اسباب سماج کے اندر اب بھی پرورش پارہے ہیں۔ البتہ بعض عارضی اقدامات کی وجہ سے انقلاب کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔ یہ توجیہ جو ابتدا ئز کاٹشکی (Kautsky) نے پیش کی تھی اور اس کے بعد مختلف لوگوں کی طرف سے مختلف انداز میں دہرائی جاتی رہی ہے۔ یہ در حقیقت مارکزم کی توجیہ نہیں بلکہ اس کی تنسیخ ہے۔ سماجی تبدیلیوں کے متعلق مارکس کی پیشین گوئی کی بنیاد اس نظریہ پر ہے کہ انسانی سماج کے اندر جو واقعات رونما ہوتے ہیں ان کا اسی طرح ایک اٹل قاعدہ ہے جس طرح مادی دنیا کے اندر ہونے والے واقعات کا قاعدہ ہے۔ یعنی جس طرح زمین ایک معین اصول کے مطابق گردش کررہی ہے اور کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔ اسی طرح سماج کے اندر ارتقائی تبدیلیاں بھی لازمی تقاضے کے طور پر آتی ہیں۔ سماجی تبدیلیوں کا ایک اٹل قانون ہے۔ جو انسان کی مرضی سے آزاد ہو کر اپنا کام کرتا ہے۔ کسی کے بس میں نہیں ہے کہ اس کو بدل سکے۔ لیکن اس نظریہ کے برعکس یہ توجیہ کہتی ہے کہ انسان اس تبدیلی کے قانون پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس کو عارضی طور پر ملتوی کر سکتا ہے۔ یہ توجیہ سماجی تبدیلی کے قوانین پر انسانی ارادہ کے تصرف کو محدود مدت کے لئے تسلیم کرتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب درمیانی مدت کے لئے آپ انسانی تصرف کو تسلیم کرتے ہیں توکس منطق سے اس کی آخری منزل کے لئے اس کو تسلیم نہیں کرتے۔ انقلاب کی درمیانی منزلوں میں اگر انسان کا ارادہ حالات پر اثر انداز ہو سکتا ہے تو اس کی آخری منزل میں کیوں اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ اگر عارضی اقتدار کا نظریہ مانا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس دنیا میں کچھ ایسی طاقتیں بھی ہیں جو تاریخ کے سفر پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ جو تاریخی قوتوں کو کبھی کبھی زیر کر لیتی ہیں۔ اگستیا ہے تو کس دلیل کی بنا پر تسلیم کیا جائے کہ ان قوتوں کا اثر صرف وقتی ہوتا ہے۔ مارکس نے سماجی تبدیلی کے قوانین پر انسانی تصرف سے مطلقاً انکار کیا تھا ۔ اب آپ درمیانی مدت کو اس سے مستثنیٰ کر رہے ہیں۔ پھر جس طرح درمیانی مدت کے لئے مارکس کا مفروضہ غلط ثابت ہو گیا ، ٹھیک اسی طرح آخری منزل کے لئے بھی یہ مفروضہ کیوں غلط ثابت نہیں ہوگا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader