مارکس کے حل پر اصولی تنقید
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
فنون لطیفہ میں دل چپی لے سکتا ہے ۔ اس لئے طریقِ پیداوار وہ اصل بنیاد ہے جس پر سماجی زندگی کی تعمیر ہوتی ہے ۔ یہی وہ اساس ہے جس پر کہ ریاستی ادارے ، قانونی تصورات ، علوم وفنون حتیٰ کہ مذہبی معتقدات کی رفیع الشان عمارتیں اٹھائی جاتی ہیں ۔ " اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کے بناؤ اور بگاڑ میں اصل چیز جو اہمیت رکھتی ہے وہ یہ سوال ہے کہ حصولِ معاش کے ذرائع کس کے قبضہ میں ہیں ۔ جن لوگوں کے ہاتھ میں معاشیات کے ذرائع ہوتے ہیں ، وہی حکومت کرتے ہیں ، انھیں کی مرضی قانون کی شکل اختیار کرتی ہے ، وہی مذہبی اور اخلاقی قدروں کا تعین کرتے ہیں ۔ انھیں کی پسند ناپسند اور انھیں کے نفع نقصان کے مطابق تمدن کے تمام شعبے ترتیب دیئے جاتے ہیں ۔ اس طرح یہ معاشی پیداوار کے ذرائع اگر سماج کے قبضہ میں ہوں تو سماج کے تمام شعبے اور اس کے تمام ادارے سماج کے عمومی مفاد کے مطابق کام کریں گے ۔ اور اگر ان ذرائع پر چند مخصوص لوگوں کا قبضہ ہو جائے تو ساری سرگرمیوں کا رخ بس انھیں چند بستیوں کی طرف ہو جائے گا اور عوام کے حصہ میں کچھ نہ رہے گا ۔ سوشلسٹ تجزیہ کے مطابق آج صورتِ حال یہ ہے کہ دولت حاصل کرنے کے تمام ذرائع چند سرمایہ داروں کے قبضہ میں چلے گئے ہیں ، اور بقیہ لوگ صرف ان کے غلام بن کر رہ گئے ہیں ۔ کچھ لوگوں کے حصہ میں عیش ہے اور بیشتر لوگوں کے حصہ میں افلاس اور بے روزگاری ۔ کمیونسٹ مینی فسٹو میں کہا گیا ہے : " پرولتاریہ کے نزدیک قانون ، اخلاق اور مذہب سب کے سب بورژوا کے توہمات ہیں ، جن کے پیچھے ہزاروں بورژوا مفادات چھپے ہوئے ہیں ۔ " مارکسی تشخیص کے مطابق اس خرابی کی جڑ دراصل نجی ملکیت کا قانون ہے جس کی وجہ سے ایک شخص کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ دولت کے خزانوں کو اپنی ملکیت بنا کر دوسروں کو اس سے محروم کر دے اور اس طرح سماج کے اندر ایک ایسی حیثیت حاصل کرلے جہاں سب کچھ اسی کے لئے ہو اور دوسرے کے لئے کچھ بھی نہ ہو۔ اس کا حل یہ ہے کہ نجی ملکیت کا خاتمہ کر دیا جائے اور رزق حاصل کرنے کے ذرائع کو سارے عوام کی ملکیت بنا دیا جائے ۔ اس طرح رزق کے خزانوں پر چند افراد کی اجارہ داری خود بخود ختم ہو جائے گی اور زمین کی دولت اور جو کچھ اس زمین پر ہے وہ زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کو ملنے لگے گی ۔ کمیونزم کے اس حل کے پیچھے جو فلسفہ کام کر رہا ہے ۔ ٹھیک یہی فلسفہ اس سے پہلے شخصی حکومتوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader