Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکس کے حل پر اصولی تنقید

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

کے خلاف جمہوریت کے نام سے اختیار کیا گیا تھا۔ اس وقت یہ نظر یہ پیش کیا گیا کہ سیاسی اختیارات زندگی میں اصل فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں ، یہ جس کے ہاتھ میں ہوں وہ دوسروں کو اپنا غلام بنا لیتا ہے اور سماج کے تمام اداروں کو سماج کی خدمت کرنے کے بجائے اپنی خدمت کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔ اس لئے عام پبلک کو حقیقی معنوں میں آزاد کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی اختیارات چند لوگوں کے ہاتھ میں نہ ہوں بلکہ سارے عوام کے ہاتھ میں ہوں۔ انھوں نے کہا کہ سیاسی اختیارات سارے عوام کا حق ہیں اس لئے شاہی خاندان کے چند افراد کے بجائے سارے عوام کی حکومت ہونی چاہئے۔ لوگوں پر جو مظالم ہو رہے ہیں اور ایک محدود طبقہ کو زندگی کے ہر شعبہ میں جو ترجیحات حاصل ہوگئی ہیں وہ اسی لئے ہیں کہ اختیارات پر چند افراد کا قبضہ ہے۔ اگر اختیارات تمام لوگوں کے قبضہ میں دے دیئے جائیں تو یہ ظلم خود بخود ختم ہو جائے گا۔ جان کالوین (۱۵۰۹ - ۶۷) جمہوری طرزِ حکومت کا حامی تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اس قسم کی حکومت میں مخالفت اور باہمی کش کش ختم ہو جائے گی۔ کیونکہ خود عوام ہی تو حاکم ہوں گے ، پھر کون مخالفت کرے گا ، کون کس پر ظلم کرے گا ، دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ اشتراکی حضرات معاشی اختیارات کو سماج کی ملکیت بنا دینا چاہتے ہیں اور وہ لوگ سیاسی اختیارات کو سماج کی ملکیت بنانے کے علم بردار تھے ۔ یہ تحریک بڑے زور شور کے ساتھ سترھویں صدی میں فرانس سے اٹھی اور بالاخر ساری دنیا پر چھا گئی۔ کیا سیاسی اختیارات کو عوامی ملکیت بنانے کا یہ اصول کامیاب ہوا۔ اس کے جواب میں ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ، خود اشتراکی حضرات تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اصول بالکل بالکل کامیاب نہیں ہوا۔ بلکہ جمہوریت خود شہنشاہی نظام کی بدلی ہوئی شکل ثابت ہوئی۔ جمہوریت کی ناکامی کی تفصیلات سے اشتراکی لٹریچر بھرا ہوا ہے ۔ اینگلس نے اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ " روسو کا معاہدہ عمرانی ایک خونی حکومت (Reign of Terror) کی شکل میں ظاہر ہوا ۔ 47 " - لے لینن نے کہا ہے : " جب جاگیرداری کا تختہ الٹ گیا اور آزاد سرمایہ دارانہ سماج خدا کی زمین پر قائم ہو گیا تو یہ ظاہر ہوتے دیر نہ لگی کہ یہ آزادی محنت کشوں کے لئے جبر و استحصال کا ایک نیا نظام لائی ہے ۔ ۵۸ " جب ایسا ہے تو کیوں نہ ہم سمجھیں کہ کارل مارکس کی " معاشی جمہوریت " کا بھی وہی انجام ہوگا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page