Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکس کے حل پر اصولی تنقید

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

دیدیتا ہے۔ کیا یہ ظلم پر عذابِ عظیم کا اضافہ نہیں ہے؟ جمہوری معاشیات میں آدمی کو صرف معاشی تکلیف ہوتی ہے مگر اشتراک کی معاشیات میں ایک مزید نقصان یہ ہے کہ معاشی تکلیف پر تمدنی عذاب کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ سرمایہ داری نظام میں تو آدمی آزاد ہے کہ اپنی مرضی سے کوئی پیشہ اختیار کرے ، مگر اشتراکی نظام میں اسی کے ساتھ آدمی کو دفتریت اور نوکر شاہی کا بھی شکار ہونا پڑتا ہے۔ آزاد لین دین اور سرکاری افسروں کے ذریعہ معاش کی تنظیم میں زبردست فرق ہے۔ پہلی صورت میں آدمی آزاد ہوتا ہے کہ وہ کس پیشہ کو اختیار کرے ۔ وہ کتنا وقت کس کام میں دے۔ وہ جب کوئی کام کرتا ہے یا کسی دکان سے سامان خریدتا ہے تو دوسرے سے اس کا معاملہ ایک برابر کے آدمی کا سا ہوتا ہے ۔ دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کو اس کی ضرورت کی کوئی چیز دیتا ہے اور اس سے سے اپنی ضرورت کی کوئی چیز لیتا ہے ۔ اس طرح دونوں کے درمیان برابر کا معاملہ ہوتا ہے ۔ مگر سرکاری تنظیم میں ہر شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے اوپر کچھ لوگ ہیں جو اس کے خدا وند ہیں وہ جو کچھ کر سکتا ہے اپنے اوپر کے ایک صاحب اختیار کی اجازت سے کر سکتا ہے ۔ اس طرح معاملہ دو برابر کے آدمیوں کے درمیان نہیں رہتا بلکہ دو ایسے آدمیوں کے درمیان ہو جاتا ہے جن میں سے ایک بے اختیار ہے اور دوسرا با اختیار ۔ ایک اجازت مانگنے والا ہے اور دوسرا وہ جس کے دستخط سے اجازت ملے گی ۔ اس طرح ہر شخص یا تو کسی کا خدا وند ہوتا ہے یا اس کے اوپر کوئی خدا وند ہوتا ہے ۔ آزاد معیشت میں آدمی کی خودی باقی رہتی ہے اور ترقی کرتی ہے جب کہ سرکاری انتظام میں اس کی خودی مر جاتی ہے اور ہر شخص اپنے سے اوپر والوں کی خوشامد کرنے والا اور اپنے سے نیچے والوں کے لئے متکبر بن جاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ "اجرتی غلامی" کا لفظ اگر صحیح معنوں میں کہیں راست آتا ہے تو وہ اشتراکی معاشرہ ہے۔ جمہوری معاشرہ میں آدمی اجرت پر کام کرتا ہے مگر وہ اس کے لئے مجبور نہیں ہوتا۔ وہ اگر چاہے تو مزدوری کو چھوڑ کر تجارت یا کوئی آزاد پیشہ کر سکتا ہے ۔ جب کہ اشتراکی نظام میں اس کے سوا رزق کی کوئی صورت ہی نہیں کہ آدمی سرکاری ملازمت کرے یا سرکاری کار خانوں میں مزدور بن جائے ۔ اس کے علاوہ جمہوری معاشرہ میں آدمی پھر بھی آزاد ہوتا ہے جب کہ اشتراکی معاشرہ میں مکمل سیاسی اور معاشی آمریت اس کے اوپر مسلط ہو جاتی ہے ۔ "مزدوروں کی ڈکٹیٹر شپ" در اصل نام ہے تمام لوگوں کو مزدور بناکر ان کے اوپر ڈکٹیٹر شپ قائم کرنے کا ۔ انفرادی لوٹ کی بدترین شکل ملکیتی نظام کے خلاف مارکزم کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس میں بالاخر سارا سرمایہ سمٹ کر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page