Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکس کے حل پر اصولی تنقید

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

چند لوگوں کے ہاتھ میں آ جاتا ہے اور یہ گروہ اتنا طاقت ور ہو جاتا ہے کہ تمام سیاسی اور معاشی سرگرمیوں پر اس کی اجارہ داری قائم ہو جاتی ہے، حکومتوں کی پالیسی بالکل اس گروہ کے مفاد کی پابند ہو جاتی ہے: جس کا نتیجہ صرف یہی نہیں ہوتا کہ ملک کے باشندے سرمایہ داروں کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں بلکہ سرمایہ داروں کے درمیان باہمی مفاد کی کش مکش بین الاقوامی دنیا کے امن کو بھی غارت کر دیتی ہے ۔ جس کی ایک نمایاں مثال دوسری جنگِ عظیم ہے ۱۹۱۴ء کی لڑائی کے بعد تمام بڑے ممالک کے درمیان آپس میں معاشی جنگ چھڑ گئی ہر ملک کی حکومت نے اپنے ملک کے سرمایہ داروں کے دباؤ میں پڑ کر دوسرے ملک کے خلاف فیصلے کئے، دوسرے ملکوں کے مال کی درآمد پر بھاری محصول لگائے، جس کا نتیجہ تاریخ کی سب سے زیادہ ہولناک جنگ ـــــ دوسری جنگِ عظیم ــــــــــ کی شکل میں برآمد ہوا۔ ایک کمیونسٹ ادیب کے الفاظ میں ’’سرمایہ داروں کے مفاد کے باہمی ٹکراؤ کا نام دوسری جنگ عظیم ہے:‘‘ موجودہ سرمایہ داری نظام کے خلاف مارکسزم کا یہ مقدمہ بالکل صحیح ہے۔ مگر خود اس نے اس مشکل کا جو حل پیش کیا ہے وہ اسی برائی کی مزید بد تر شکل ہے جس کو مٹانے کا وہ دعویدار ہے۔ آپ اجارہ داری کو ختم کرنے کے لئے عام پبلک کو ملکیت کے حق سے محروم کر رہے ہیں۔ مگر کھیتی، کاروبار اور نشر و اشاعت کے مختلف اداروں کو چلانے اور ضروریاتِ زندگی کا سامان فراہم کرنے کے لئے بہر حال آپ کو کوئی انتظام کرنا ہو گا۔ یہ انتظام یقیناً ملک کے تمام باشندے نہیں کر سکتے۔ بلکہ کچھ مخصوص لوگوں کو اس کا انتظام سپرد کرنا ہوگا۔ یہ منتظمین قدرتی طور پر وہی لوگ ہوں گے جن کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور ہوگی۔ جو لوگ سیاسی اختیارات کے مالک ہیں انھیں کو آپ معاش اور روزگار کی ملکیت بھی سونپ دیں گے ۔ گو یا دو مختلف اختیارات جو پہلے تاجروں اور سیاسی لیڈروں میں بٹے ہوئے تھے‘ ان کو آپ اکٹھا کر کے صرف سیاسی لیڈروں کے حوالہ کر دینا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نئے منتظمین جب آہستہ آہستہ تمام اختیارات پر قابض ہو جائیں گے اور روٹی کی تقسیم سے لے کر خیالات کی اشاعت تک ہر چیز ان کے قبضہ میں چلی جائے گی تو کیا اس طرح پہلی اجارہ داری سے بڑی اور خطر ناک اجارہ داری نہیں پیدا ہوگی جس کے مٹانے کے لئے آپ نے تمام آبادی کو ملکیت اور آزاد ذریعہ معاش سے محروم کر کے محض سرکاری ملازمین میں تبدیل کر دیا تھا۔ اجارہ داری کا مطلب اگر یہی ہے کہ کچھ لوگوں کے ہاتھ میں بیشتر لوگوں کا رزق آ جائے تو کیا یہ اجارہ داری نہیں ہے کہ چند سیاسی لیڈر پورے ملک میں روٹی اور کپڑے کے ٹھیکیدار بن جائیں۔ کسی کو کھیتی کرنے کی اجازت نہ ہو: کار و بار کرنے کی۔ سارے ملک کا بس ایک ان داتا ہو اور سب کا رزق اسی کے دربار سے تقسیم ہوتا ہو۔ یہ اجارہ داری جن لوگوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page