Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکس کے حل پر اصولی تنقید

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

ہاتھ میں ہوگی وہ اگر بگڑ جائیں تو پورے ملک کو جیل خانے میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ ان اجارہ داروں کے ہاتھ میں محض کوئی ایک صنعت یا کارخانہ نہیں ہوگا بلکہ سارے ملک کے تمام ذرائع معاش ان کے قبضے میں ہوں گے۔ پریس اور تعلیم گاہیں بھی انھیں کے اختیار میں ہوں گی۔ ہر قسم کی پنشنوں اور ملازموں کے تقرر کا حق انھیں کو حاصل ہوگا ۔ ان کو اختیار ہوگا کہ جس کو جو کچھ چاہیں دیں اور جس سے جو کچھ چاہیں چھین لیں۔ وہ اگر کسی سے خفا ہو جائیں تو سارے ملک میں اس کو کہیں روزگار نہیں مل سکتا، کیونکہ روزگار کی تمام شکلوں کے وہ تنہا اجارہ دار ہیں۔ وہ جس کوروٹی نہ دینا چاہے وہ کہیں سے اپنا پیٹ نہیں بھر سکتا، کیونکہ رزق کے تمام خزانوں کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ وہ خواہ کتنا ہی ظلم کر ڈالے مگر کسی پریس میں اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی جاسکتی۔ کیونکہ پریس بھی سب کے سب اسی اجارہ دار کی مٹھی میں ہیں۔ اس طرح کی اصلاح کا مطلب صرف یہ ہے کہ برلا اور ٹاٹا کو ختم کر کے چند وزیروں اور گورنروں کو ان کی جگہ پر بٹھا دیا جائے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ برلا اور ٹاٹا میں کوئی خرابی نہیں مگر یہ کون سی عقل مندی ہے کہ چھوٹے اور بے اختیار سرمایہ داروں کو ختم کر کے ایک سب سے بڑا سرمایہ دار اپنے سروں پر مسلط کر لیا جائے ۔ اور وہ بھی ایک ایسا سرمایہ دارجس کو لامحدود اختیارات حاصل ہوں، جس کے خلاف ہڑتال کرنا اور جس کو بدلنے کی کوشش کرنا آپ کے بس میں نہ رہے۔ آج اگر سیٹھ رام کرشن ڈالیہ کوئی زیادتی کرے تو پولیس اس کو گرفتار کر لیتی ہے، لیکن وزیر اور گورنر صاحبان اگر زیادتی کرنے لگیں تو ان کو کون گرفتار کر سکتا ہے۔ ان کے خلاف وارنٹ جاری کرنے والا خود ان کا ملازم ہے۔ پھر کس کو جرارت ہے کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی ملکیت کا نظام انفرادی لوٹ کی بدترین شکل ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ لوٹنے والے جواب تک محض اپنی دولت کے زور سے لوٹ رہے تھے ان کو اس بات کا موقع دے دیا جائے کہ وہ اپنی کارروائیوں کے لئے قانون کی حمایت حاصل کر لیں۔ اور فوج اور پولیس کی مدد سے زیادہ منظم طریقہ پر لوٹ کا کام کرنے لگیں۔ اشتراک کا دوسرا فائدہ جو بتایا جاتا ہے وہ بین اقوامی دنیا کا امن ہے۔ برٹرینڈ رسل نے کہا ہے " سوشلسٹ انقلاب عالمگیر امن کی طرف جانے والی سڑک ہے‘‘، مگر اس حل کے معنی اس کے سوا اور کچھ نہیں ہیں کہ چند بستیاں جو الگ الگ کئی ڈاکوؤں کا شکار ہو رہی ہوں ان سب کو ملا کر صرف ایک بڑے ڈاکو کی شکار گاہ بنا دیا جائے۔ امن عالم قائم کرنے کی اس تدبیر کا مطلب صرف یہ ہے کہ چند کا مریڈوں کے ہاتھ میں ساری دنیا کے انسانوں کی قسمت دے دی جائے جس طرح اس وقت چند کامریڈ بعض ملکوں میں اس کے باشندوں کی قسمت کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ اگر سوشلازم انھیں معنوں میں امن کی طرف جانے والی سڑک ہے تو ہٹلرزم اور بونا پارٹزم بھی امن کی طرف جانے والی سڑک تھی کیونکہ ان کا مقصد بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page