Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکس کے حل پر اصولی تنقید

Urdu book, p. 77

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی تھا کہ دنیا کی تمام قوموں پر ایک شخص یا ایک پارٹی کا اقتدار مسلط کر دیا جائے۔ اگر اشتراک سماج سے کشکش ختم ہو جاتی ہے تو روس اور یوگوسلاویہ کے درمیان کیوں کشمکش ہوئی، مشرقی جرمنی کے مزدوروں نے اسکو کے خلاف کیوں بغاوت کی جس کے نتیجہ میں انھیں ٹینکوں کے نیچے پیس دیا گیا۔ پولینڈ اور ہنگری کے عوام کیوں ”روسی برادری“ میں شامل ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔ چین اور روس کے درمیان کیوں کشمکش جاری ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ”اشتراک برادری“ کا طلسم آہنی غلامی کے سوا اور کسی چیز کا نام نہیں ہے۔ جہاں یہ آہنی گرفت ڈھیلی ہوئی قو میں اس سے بھاگنے کے لئے بے قرار ہو جاتی ہیں۔ ۱۹۵ء کے درمیان کمیونسٹ چین کے صدر ماؤزے تنگ نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ ریکونسٹ سوسائٹی میں بھی اختلافات ہو سکتے ہیں۔ ”یہ عالمی کمیونزم کی ناکامی کو سرکاری طور پر تسلیم کرنا ہے۔ ماؤزے تنگ نے کمیونزم میں اختلاف کا امکان ظاہر کر کے ایک طرف خود اپنے ملک کی روس سے جداگانہ حیثیت کو نمایاں کیا ہے۔ دوسری طرف دبی زبان سے اس حقیقت کا بھی اعتراف کیا ہے کہ کمیونزم کا سانپ نیشنلزم کے مینڈک کو ہضم نہیں کر سکا ہے۔ اس نے جتنے مینڈک کھائے تھے وہ سب اس کے پیٹ میں پھدک رہے ہیں اور موقع پاتے ہی نکل بھاگنا چاہتے ہیں۔ اب کمیونسٹ دنیا کو جوڑے رکھنے کی یہی ایک صورت ہے کہ ان کے باہمی اختلافات کو تسلیم کیا جائے یعنی کمیونزم کی عالمی برادری بنانے کے نظریہ کو قربان کر کے ان کے نیشنلزم کے لئے جگہ بنائی جائے۔ اجارہ داری کیوں اجتماعی ملکیت کا نظام اجارہ داری کے بغیر قائم نہیں کیا جا سکتا اور یہ اس کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نظام کے اندر خود کوئی ایسی کشش نہیں ہے جس کی وجہ سے لوگ اس کی طرف مائل ہوں، بلکہ اس کی کامیابی کا انحصار تمام تر اس امر پر ہے کہ لوگ اس کی طرف مائل ہونے کے لئے مجبور کر دیئے گئے ہوں۔ آزاد معیشت میں کسی چیز کے بنانے کے بہت سے کارخانے ہوتے ہیں۔ وہاں کسی کارخانے کے چلنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنی حسن کارکردگی سے عوام کی نگاہ میں اپنے آپ کو مقبول بنا سکے۔ آزاد معیشت میں کسی کارخانے کی کامیابی کے معنی یہ ہیں کہ اس نے دوسرے ہم عصروں کے مقابلہ میں اپنے آپ کو فائق تر ثابت کر دیا ہے۔ مگر اجتماعی ملکیت کا نظام آزاد مقابلہ سے ڈرتا ہے۔ وہ جب کاروبار کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اس میں عام پبلک کے لئے حصہ لینا حرام قرار دے دیتا ہے اور اس طرح لوگوں کو مجبور کرتا ہے کہ اپنی ضروریات کے لئے وہ صرف اسی کے یہاں آئیں دوسری جگہ کہیں نہ جا سکیں۔ اگر ایک عام تاجر کوئی کاروبار کرے تو اس کے معنی صرف یہ ہوتے ہیں کہ اس کاروبار کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page